اکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’دستک‘‘جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل تھا، ۲۰۰۵ء میں منظر عام پر آیا۔اُن کی شاعری در اصل جدید حسّیت اور عصری حسّیت کا عمدہ امتزاج ہے۔وجدانی کیفیات اور شعوری تجربات و مشاہدات کا حسنِ توازن ہے۔ اِس لیے یہ آج کی حقیقی شاعری ہے جو اُردو غزل کا تاریخی ارتقا بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور لچک دار اِس قدر ہے کہ عصری آشوب سے بھی پہلو تہی نہیں کرتی۔ اسلوبِ بیاں ایسا کہ روایت سے آگہی کلام میں جھلکتی محسوس…

Read More

حنیف فوق ۔۔۔۔ فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی

فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی کلیجہ تھام کر وحشت چلی تھی کبھی اس کی جوانی منچلی تھی کبھی دنیا بھی سانچے میں ڈھلی تھی یہی آئینہ در آئینہ الفت کبھی عکس‌ِ خفی نقشِ جلی تھی نہ چھوڑا سرد جھونکوں نے وفا کو جو شاخِ درد کی تنہا کلی تھی بگاڑا کس نے ہے طبعِ جہاں کو کبھی یہ رند مشرب بھی ولی تھی محیط ہنگامۂ آفاق پر ہے صدائے درد جو دل میں پلی تھی غنیمت جانئے پھر نیم روشن چراغ راہ سے اپنی گلی تھی برا ہو آگہی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ تزئین راز زیدی

تزئین راز زیدی تزئین راز زیدی کاتعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ تین شعری مجموعے راز داں‘ مضرابِ رگ جاں اور کسک منظر عام پر آچکے ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’ریزہ ریزہ خط و خال‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اُن کے ہاں کچھ نہ کچھ اچھوتے موضوعات ضرور ملتے ہیں۔اکثر افسانے کا آغاز مکالمہ نگاری یا پھر کسی نہ کسی شعر سے کرتی ہیں کہ خود اُن کی پہلی پہچان شاعری ہے۔اِسی طرح اُن کے کئی افسانے ایسے ہیں…

Read More

رضاء الحق صدیقی ۔۔۔ اعجاز گل کا ’’گمان آباد‘‘

اعجاز گل کا ’’گمان آباد‘‘ اعجاز گل نے گمان کی دنیا بسائی تو اُسے گمان آباد کا نام دیا۔ شاعری میں گمان آباد جیسے تجربے بہت کم ہوئے ہیں۔خواجہ میر درد نے کہا تھا: ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے اعجاز گل نے اپنے گماں آباد کا آغاز ہی ازلی تجسس سے کیا ہے۔ تجسس انسانی طبیعت میں شامل ہے۔ اور اسی تجسس نے اسے جنت سے ازلی ہجرت پر مجبور کیا: ذرا بتلا زماں کیا ہے، مکاں کے اُس طرف کیا…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا

آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا نقشہ بدل گیا ہے پرانے مکان کا تارے سے ٹوٹتے ہیں ابھی تک ادھر ادھر باقی ہے کچھ نشہ ابھی کل کی اڑان کا کالک سی جم رہی ہے چمکتی زمین پر سورج سے جل اٹھا ہے ورق آسمان کا دریا میں دور دور تلک کشتیاں نہ تھیں خطرہ نہ تھا ہوا کو کسی بادبان کا دونوں کے دل میں خوف تھا میدانِ جنگ میں دونوں کا خوف فاصلہ تھا درمیان کا علوی کواڑ کھول کے دیکھا تو کچھ نہ تھا وہ…

Read More