ماجد صدیقی ۔۔۔ دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں

دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں اشک بھی جیسے اوس ہُوئے دیتے جو دکھائی کم کم ہیں اک جیسی ہیں وہ جلتی آنکھوں کی ہوں کہ چراغوں کی رخساروں منڈیروں پر جتنی بھی لَویں ہیں مدّھم ہیں صحراؤں میں دست و گریباں اِک دوجے سے بگولے بھی بحر کنارے موجیں بھی مصروفِ شورشِ باہم ہیں وہ بھی جو دبنے والے ہیں نسبت اُس سے رکھتے ہیں اور وہ بھی جو دھونس دکھائیں فرزندانِ آدم ہیں اب کے تو آثارِ سحر جیسے نہ اِنہیں بھی دکھائی دیں…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا

قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا مردُود، بہت مقبول ہُوا ہر طُول کو عرض کیا اُس نے اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے جو کام کیا، وہ اصول ہُوا گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا ہو کیسے سپھل پیوندوں سے ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں

جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ماجد ہاری ہوں, لگان دے رہا ہوں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے

خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے ہاتھ دستِ یزید میں جو نہ دے حق سرائی میں اپنا سر دے دے اہلِ حق کو جو فتحِ مکہ دے اے خدا تجھ سے کچھ بعید نہیں اشک ہیں جس طرح کے آنکھوں میں دامنوں کو وہی گہر دے دے ہوں بھسم آفتوں کے پرکالے بُوندیوں میں بدل چلیں ژالے جو بھی واماندگانِ گلشن ہیں رُت انہیں پھر سے بال و پر دے دے لَوث جس کونہ چھُو کے گزری ہو جس میں خُو خضرِ دستگیر کی ہو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا

دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا میں اشک ہوں، میں اوس کا قطرہ ہوں، شرر ہوں انداز بہم ہے مجھے پانی کے سفر کا کروٹ سی بدلتا ہے اندھیرا تو اُسے بھی دے دیتے ہیں ہم سادہ منش، نام سحر کا تہمت سی لئے پھرتے ہیں صدیوں سے سر اپنے رُسوا ہے بہت نام یہاں اہلِ ہُنر کا قائم نہ رہا خاک سے جب رشتۂ جاں تو بس دھول پتہ پوچھنے آتے تھی شجر کا جو…

Read More