قابل اجمیری

حسنِ ترتیب ہے دلیلِ چمن ورنہ صحرا میں کیا بہار نہیں

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ سکھائی جس کو دانائی

Read More

عاصم بخاری ۔۔۔ راحتیں ڈھونڈتا ہے دل وہ ہی

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ کہانی کچھ ایسے بنائی گئی ہے

Read More

اکمل حنیف ۔۔۔ تیرے جیسے ترے کمال کے دکھ

Read More

محمد افضال انجم ۔۔۔ دو غزلیں

Read More

منزہ سحر ۔۔۔ ایک ذرا سی بھول ہوئی تو ہجر کا لمحہ دیکھ لیا

Read More

شہزاد احمد

تمام عمر ہوا پھونکتے ہوئے گزری رہے زمیں پہ مگر خاک کا مزا نہ لیا

Read More

نوید صادق ۔۔۔۔ تو مجھے بھول جانے والا کون

Read More

قتیل شفائی ۔۔۔ حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں

Read More