ایک لمحہ ہے ترے حُسنِ نظر کا جاگنا عشق ہے لیکن مسلسل عمر بھر کا جاگنا زندگی کے چاک پر گردِش کو رکھتا ہے رواں کُوزہ گر کے ہاتھ میں شوقِ ہنر کا جاگنا بنتا جاتا ہے تلاشِ آب و دانہ کا سبب صبح سے پہلے ہر اِک شاخِ شجر کا جاگنا کر گیا مجھ کو نئی سمتوں کی حیرانی میں گم منزلِ گم گشتہ سے عزمِ سفر کا جاگنا پھر کوئی پُرنم اُداسی دے گیا مجھ کو نبیل صفحۂ دل پر کسی رنگِ اثر کا جاگنا ۔۔۔۔۔ زندگی یوں…
Read MoreTag: شعر
دلشاد احمد ۔۔۔ دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے
دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے میلے میں آ کے بھی کوئی تنہا لگا مجھے مسکاں منافقت کی مرا دل جلا گئی دشمن کا منہ پہ بولنا اچھا لگا مجھے ہر سانس جیسے وجہِ شکستِ وجود ہے ہر لمحہ ایک گھن کی طرح سا لگا مجھے جیسے ٹریڈ مل پہ ہوں اور چل نہیں رہا ایسا بھی ہو رہا ہے کچھ ، ایسا لگا مجھے آتا گیا قریب تو کھلتا چلا گیا اک شخص جو کہ دُور سے اچھا لگا مجھے دیکھا اُسے جو پیار کا چشمہ اتار کر…
Read Moreمحسن اسرار
اُسے بتاؤ کہ محسنؔ ابھی میں زندہ ہوں رگوں میں خون بھی ہے ہڈیوں پہ ماس بھی ہے
Read Moreراحت اندوری
راحت اندوری کا یہ شعر تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاموش بے بسی اور نظامِ معاش کی بےحس بیکاری کا علامتی و احتجاجی اظہاریہ ہے۔
Read Moreادا جعفری
اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔
رضا اللہ حیدر ۔۔۔ بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے
بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے شاخِ احساس پہ تنویر سجا کر نکلے اور پھر بارشِ انوار سے بھر دے دامن تھامے بادل کی کلائی کوئی رہبر نکلے وہ جو گردابِ بلا ٹھیل گئے جھیل گئے بحرِ ہستی کے تلاطم میں شناور نکلے جن کے سینے میں دھڑکتا نہیں ریزہ کوئی دوست ایسے ہی مری راہ کے پتھر نکلے وہ کہ جو قوتِ بازو پہ بہت نازاں ہے آج آ جائے مقابل مرے ، باہر نکلے بد گمانی نے کئی چہرے بجھا رکھے تھے آزمائے تو رضا سرو…
Read Moreمحشر بدایونی
حبس چھٹ جائے، دیا جلتا رہے گھر بس اتنا ہی ہوادار اچھا
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ایک خاموش نظم
ایک خاموش نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرنوں کی بارش نہ خوشبو ہَوا کی نہ موسم کے آثار میں زندگی کا سماں ماتمِ حبس میں ایک خاموش آواز کا نغمہ ٔ خامشی سُن کے آنسو بہاتی ہوئی رات کی جیب سے جب سسکتا ہوا چاند نکلا تو آنکھوں نے چپکے سے محرومیوں سے یہ پیماں کیا آج کی رات سوجائیں ہم
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ گدازِ دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا
یہ غزل باطن کی تجلی، روح کی بیداری، اور محبت کی معنوی تطہیر کا شعری مظہر ہے، جہاں ہر شعر اک اشکِ فکر، اک صداے دل معلوم ہوتا ہے۔
جوشؔ نے اپنے مخصوص خطیبانہ آہنگ میں حسن، وفا، اور معاشرتی اقدار پر نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ انہیں روحانی کشف و جذب کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔
اشعار میں اندیشہ و وجد کی وہ چنگاری موجود ہے جو دل کو لرزاں و ترساں رکھتی ہے—خصوصاً جب نویدِ عیش کے پیچھے نئی مصیبت کی آہٹ سنائی دے۔
شاعر حسن کے تغافل، ضبطِ شوق کی زہرناکی، اور اہلِ دنیا کی بے حسی پر شعلہ بیانی کے ساتھ اظہارِ افسوس کرتا ہے۔
یہ غزل جوشؔ کی عشقِ آگیں، فکرِ دروں بیں، اور سچ کہنے کی بیباک روایت کا درخشندہ استعارہ ہے، جہاں ہر لفظ بجائے خود تپش رکھتا ہے۔
خاور اعجاز ۔۔۔ یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں
یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں نہر کی بولی سے مَیں سیکھی ہے دریا کی زباں عیش و عشرت میں کمیداں ہُوئے ایسے مصروف طاقِ نسیاں پہ دھری رہ گئیں شمشیر و سناں اِس میں ظاہر ہُوئے کچھ تازہ شگوفے تو کھُلا میرے گلدان پہ تہمت تھی یہ تصویرِ خزاں مجھے آتا ہے حریفوں کو بھی تابع رکھنا میرا سکہ ابھی بازار میں چلتا ہے میاں سب کو معلوم نہیں کوچۂ جاناں کا پتا کوئی کوئی ہے جسے اذنِ رسائی ہے یہاں
Read More