احمد مشتاق ۔۔۔۔۔ یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے لب یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شاید کجا وہ ثمرۂ باغِ طلب کجا مرے لب

Read More

احمد مشتاق

ہر نئے چہرے کے ساتھ اک آرزو جاتی رہی گم ہوئیں چیزیں مری نقل مکانی میں بہت

Read More

احمد مشتاق

اِن مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی تھی کیسے کِھلتی تھی محبت کی کلی، یاد نہیں

Read More

احمد مشتاق

تمام رات پھڑکتے رہے گلاب کے پھول ہوا بھی تیز تھی اور ٹہنیوں کا جال بھی تھا

Read More

احمد مشتاق

وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا اُسے کیا خبر، مرے دل میں بھی کبھی آرزوئے گناہ تھی

Read More