نسیمِ سحر ۔۔۔ گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے

گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے کہ پھٹتا ہوا چیتھڑا وقت ہے کبھی مان لیتا تھا باتیں مِری اور اب اپنی ضِد پر اَڑا وقت ہے یکایک ہی اُس کی گھڑی رُک گئی جو یہ کہہ رہا تھا، بڑا وقت ہے ! میں لاوقت ہوں اور مشکل میں ہوں مِرے راستے میں پڑا وقت ہے کہیں ٹوٹ جانا تو ہے لازمی کہ دریا میں کچا گھڑا وقت ہے کوئی وقت بھی اتنا اچھا نہ تھا مگر یہ بہت ہی کڑا وقت ہے مری عمر کچھ اِتنی کم بھی نہیں…

Read More

احمد حسین مجاہد

جب علی اکبر کو رخصت دی تو کہتے تھے حسین اب پسِ پردہ شبیہِ مصطفیٰ ہو جائے گی

Read More