تخلیق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے کا یخ بستہ موسم میرے اندر کی گرمی کو چاٹ چکا تھا آنکھوں کی جھیلوں میں گویا بچھڑی ہوئی یادوں کی کائی جمی ہوئی تھی بستر پر اک بے حس اور انجانی سی چپ گرد کی صورت پڑی ہوئی تھی روح کے آنگن میں پیڑوں کی سوکھی شاخیں دھند میں گم تھیں اور خیالوں کے سرچشمے خشک پڑے تھے ایسے میں اک دستک ابھری کھڑکی کے پٹ کھول کے میں نے باہر دیکھا درد اچانک جاگ اٹھا تھا ایک سنہرے اور تازہ احساس کا آنچل سر پر…
Read MoreTag: Dr Rukhsana Saba
رخسانہ صبا
سنا ہے اہلِ دل نایاب ہوتے جارہے ہیں سو ہم بھی رفتہ رفتہ خواب ہوتے جارہے ہیں
Read More