بکھرا ہوا وجود منظم کرے کوئی احساں یہ مجھ نحیف پہ پیہم کرے کوئی دو چار دن کا گریہ نہیں عمر بھر کا ہے میری طرح سے آنکھیں ذرا نم کرے کوئی تنہا دلوں کی ویسے بھی رکھتا خبر ہے کون اک بے نوا کے رنج ہیں کیا غم کرے کوئی محبوب کے مزاج کا ہر رنگ منفرد شائستگی سے یار کو برہم کرے کوئی جو تجھ سے دْور ہو وہ کہاں صبر کر سکے تجھ سے بچھڑ کے کیسے نہ ماتم کرے کوئی دنیائے ہست و بود کا ہر…
Read MoreTag: Mustahsan Jami's poetry
مستحسن جامی ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
ہمارے حجرے میں مخفی نعمت چراغ کی ہے وہ اس لئے ہے کہ اب ضرورت چراغ کی ہے اگر ہو ممکن ، جدھر بھی موقع ملے سمیٹو جہاں میں سب سے زیادہ برکت چراغ کی ہے ازل سے دیکھا ہر اک زمان و مکان اس نے جُدا زمانے میں یوں بصارت چراغ کی ہے میں گہرے جنگل کی وحشتوں سے اگر بچا ہوں یقین کیجے یہ ساری ہمت چراغ کی ہے منا رہا ہوں بہت عقیدت سے آج گھر میں خوشی سے رقصاں ہوں کہ ولادت چراغ کی ہے مرے…
Read More