اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے ہمیں جو دیکھ لے ہنس کے، ہمارا لگتا ہے اسی کی بات سنے اور اسی کی بات کرے ہمارے دل پہ اسی کا اِجارہ لگتا ہے پھٹا لباس نہ دیکھ اس کی بات غور سے سن مجھے وہ شخص محبت میں ہارا لگتا ہے ادب میں عہدے نہیں‘ کام بولتا ہے میاں! وہ ایک شخص اکیلے ادارہ لگتا ہے جو شخص ڈوب رہا ہو شکستِ ذات کے بیچ بھنور بھی دور سے اس کو کنارہ لگتا ہے یہ شعر گوئی ہے یہ…
Read MoreTag: Poetry
رضی رضوی ۔۔۔ مفہوم جب تک اُن سے گھمایا نہیں گیا
مفہوم جب تک اُن سے گھمایا نہیں گیا باتوں میں اُن کی ہم سے بھی آیا نہیں گیا نشو و نما ہو کیسے ہمارے وجود کی ہم سے ترا فریب بھی کھایا نہیں گیا خود آگیا تو اس لیے رکھنا پڑا اِسے یہ شعر کھینچ تان کے لایا نہیں گیا پایا نہیں گیا جو رہا ہم کو دستیاب اور گم ہوا تو ہم سے گنوایا نہیں گیا یاروں کی بے رخی ہے یقینا عروج پر کب سے مرا مذاق اُڑایا نہیں گیا
Read Moreامجد اسلام امجد ۔۔۔ غزلِ مسلسل
غزلِ مسلسل مانا بہ دیر ایک سی حالت نہیں رہی پر کیا کریں کہ صبر کی طاقت نہیں رہی کچھ بھی نہیں تھا پاس تو رہتے تھے جب بھی خوش اور اب کسی بھی چیز میں لذّت نہیں رہی چھاتا نہیں ہے ذہن پہ وہ وصل ہو کہ ہجر شاید لہو کی آگ میں شدّت نہیں رہی دنیا کے تو حساب سے ہم کامیاب ہیں البتہ خود سے ملنے کی فرصت نہیں رہی ہم کیوں زمیں کا بوجھ بنے تم کو اس سے کیا تم پر تو بے وفائی کی…
Read Moreراحت اندوری
تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکن آنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہے
Read Moreپروین شاکر
وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
Read Moreپروین شاکر
بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکنوہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لیے
Read Moreپروین شاکر
وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا
Read Moreضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا کل شب موسم کی پہلی بارش تھی!
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ علی رضا
زباں کو وصفِ درود و سلام چاہیے ہے نظر کو روضۂ خیر الانام چاہیے ہے اسی میں راز ہے پنہاں مری فضیلت کا مجھے غلاموں میں ادنیٰ مقام چاہیے ہے کچھ اس لئے بھی مدینے کی رہگزر میں ہوں کہ مجھ کو لذتِ کیفِ دوام چاہیے ہے نہ چاہیے مجھے دنیا میں مرتبہ کچھ بھی جو چاہیے تو گداؤں میں نام چاہیے ہے وہ جس دیار میں مسکن ہے میرے آقا کا تمام عمر وہیں تو قیام چاہیے ہے انھی کے کوچے میں کٹ جائے زندگی کہ مجھے فضائے شہرِ…
Read Moreظہیر کاشمیری
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے
Read More