پنڈت آنند نرائن ملا کا نظریہ شعر و ادب پچھلی صدی کے پانچویں دہے سے شعر و ادب کے نام نہاد ناقدین ایک جھوٹ بڑے تو اتر سے بولتے آ رہے ہیں کہ ’’اگر سچ زیادہ ہو تو فن کم ہو جاتا ہے ‘‘۔ اگر اس جملے کی تقلیب کر کے یوں کہا جائے کہ ’’اگر جھوٹ زیادہ ہو تو فن بڑھ جاتا ہے ‘‘۔ تو ان ناقدین کی تیوریوں پر بل پڑ جائیں گے اور کہنے والے کا ادبی مقاطعہ کرنے میں انہیں دیر نہیں لگے گی۔ حالانکہ یہ…
Read MoreTag: Urdu adab
احمد فراز
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے بے بصر کرنے لگی ماجد گماں کی تیرگی خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا
پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا مستی میں میری تھی یاں اک شور اور شرابا وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں سوکھا پڑا ہے اب تومدت سے یہ دوآبا ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں نے عشق کو ہے صرفہ نے حسن کومحابا ہر چند ناتواں ہیں پر آگیا جو جی میں دیں گے ملا زمیں سے تیرا فلک قلابا اب شہر ہرطرف سے میدان ہوگیا ہے پھیلا تھا اس طرح کا کاہے کو یاں خرابا دل تفتگی کی اپنی ہجراں میں شرح کیا دوں…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ کیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیا
کیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیا کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گُھور گیا لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے آنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا چشمِ خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا ہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا نالۂ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ کیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا!
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا یا روز اُٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا اُن نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار میں نے اُسے ہزار جتایا تو کیا ہوا مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا میں صیدِ ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں ظاہر جہاں سے ہاتھ اُٹھایا تو کیا ہوا…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا
ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا ہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا کیا اُن نے نشے میں مجھ کومارا اتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا دشنوں سے کسی کا اتنا ظالم ٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا اب دل کے تئیں دیا تو سمجھا محنت زدوں کے جگر نہ ہوگا (ق) دنیا کی نہ کر تو خواست گاری اس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا آ خانہ خرابی اپنی مت کر قحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا پھر نوحہ گری کہاں جہاں میں ماتم زدہ میر…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے
جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے سامنا اِک عمر سے ہے اُس اندھیری رات سے مطمئن کیا ہو بھلا بچّوں کی نادانی سے وہ ماں جسے فرصت نہیں اک آن بھی خدشات سے کر لئے بے ذائقہ وہ دن بھی جو آئے نہیں درس کیا لیتے بھلا ہم اور جھڑتے پات سے ابنِ آدم اب کے پھر فرعون ٹھہرا ہے جسے مل گیا زعمِ خدائی آہنی آلات سے جس کے ہم داعی ہیں ماجد ضَو نہیں، ظلمت ہے وہ پھوٹتی ہے جو ہمارے جسم کے ذرّات سے
Read Moreآغا بابر ۔۔۔ پھیلتا ہوا کاجل (افسانہ)
’’اس وقت کا خیال کرو جب عورت کا بال سفید ہوجاتا ہے، جب عورت کے پھل پک کر سڑ جاتے ہیں اور معاشرے کی خود کار مشین اس کو اگلی قطار سے پھٹک کر پچھلی قطار میں پھینک دیتی ہے۔ اتنی دیر میں اگلی قطاروں میں نئی لڑکیاں آجاتی ہیں۔‘‘ ’’آجاتی ہوں گی۔‘‘ سلیمہ بغیر کسی ر د عمل کے بولی۔ چہرہ کورے کا کورا۔ جوار نہ بھاٹا۔ جیسے جامد پانی میں کنکر تک نہ گرے۔ یہ بات نصر ہی نے نہیں کہی تھی۔ ایسی باتیں کئی لڑکے اور کہہ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اندھیرے کی دیوار بن کے گرا
اچانک تری یاد کا سلسلہ اندھیرے کی دیوار بن کے گرا ابھی کوئی سایہ نکل آئے گا ذرا جسم کو روشنی تو دکھا پڑا تھا درختوں تلے ٹوٹ کر چمکتی ہوئی دھوپ کا آئنا کوئی اپنے گھر سے نکلتا نہیں عجب حال ہے آج کل شہر کا میں اس کے بدن کی مقدس کتاب نہایت عقیدت سے پڑھتا رہا یہ کیا آپ پھر شعر کہنے لگے ارے یار علوی یہ پھر کیا ہوا
Read More