گاؤں والا
میں یاری دوستی کا ذوق رکھوں
پسندیدہ ہے میری آشنائی
میں بیلے پر کبڈی کھیل کھیلوں
جو لہروں نے مجھے تیزی سکھائی
میں نغمہ بار کھیتوں میں پھرا ہوں
بھری فصلوں نے بخشی ہے رسائی
اطاعت گاؤں کے بچّوں سے سیکھی
بزرگوں نے سکھائی ہے بڑائی
میں لکھوں خوش خطی کاغذ پہ ایسے
مرے دل میں ہے روشن روشنائی
ملے پنگھٹ سے نینوں کو ستارے
بھلی ہے آنچلوں کی رونمائی
گھنے تھے گاؤں میں والد کے سائے
بڑی میٹھی تھی جنت مامتائی
ستارہ وار میں گلیوں میں گھوموں
مرے آگے ہے رقصاں خوش ادائی
مدھر جھرنے پہ میرا ہے ٹھکانا
یہی موسیقیاں میری کمائی
درختوں پر پرندے ناچتے ہیں
یہاں جب بانسری میں نے بجائی
