غزل ۔۔۔۔ شاخِ آشوب پہ کب کوئی کلی کھلتی ہے

  شاخِ آشوب پہ کب کوئی کلی کھلتی ہے یہ الگ بات کہ اک آس لگا رکھی ہے کتنا ساکت ہے ترے عہد کے اخلاص کا جسم سوچ کی آنکھ بھی پتھرائی ہوئی لگتی ہے پھر کوئی تازہ مصائب کا بھنور دیکھیں گے آب تسکیں پہ کوئی لہر نئی اُبھری ہے حوصلہ ہار گیا دل تو چھٹی درد کی دُھند سوچ کے پائوں ہوئے شل تو سحر دیکھی ہے آنکھ ہر لمحہ نئے جھوٹ میں سرگرداں ہے دل ہر اک لحظہ نئی چوٹ کا زندانی ہے اب کسے دل میں…

Read More

اندیشہ ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر خورشید رضوی

اندیشہ ….. خواب ہے ایک زباں جس کی فرہنگ ہے کوئی نہ لغت خواب میں خواب کے کردار ہیں خودحرف وبیاں جو بدل سکتے ہیں ہر لحظہ معانی اپنے خواب ہر جبر سے آزاد ہے وہ وقت ہو یاعقل ہو یاعلت ومعلول کا جبر اُس کے کاندھوں پہ نہیں ہے کسی منطق کا جُوا خواب پابند اگر ہے تو فقط آنکھ کاہے میں بھی اک خواب ہوں اِک سوئی ہوئی آنکھ کی جنت میں مقیم لحظہ لحظہ متغیر ورقِ ابر پہ ہنستےہوئے چہروں کی طرح کوئی اندیشہ اگر ہےتووہی آنکھ…

Read More

غزل ۔۔۔۔ خالد علیم

حضورِ شاہ چلیں گے، صدا کریں گے ہم جو کوئی زخم سے چیخ اُٹھا، کیا کریں گے ہم فضا کے محبس ِ بے رنگ سے نکلنے کو بہت ہُوا تو پرندے رہا کریں گے ہم ہمارا ظرف اگر آزمانا چاہتا ہے وہ ابتدا تو کرے، انتہا کریں گے ہم کسی بلا سے محبت گزرنا چاہتی ہے خراج اس کو مگر کیا ادا کریں گے ہم نہ دیکھ مرتی ہوئی رات کی یہ آخری سانس نہ دن ہی نکلا تو سورج کو کیا کریں گے ہم ہزار داغِ شبِ غم، گُلِ…

Read More

سید آلِ احمد

کس مسافت کے بعد پہنچا ہے تیرے رُخسار پر مرا آنسو

Read More