تم نے تو بچھڑنے میں ذرا دیر نہیں کی کچھ دیر تو اٹھتا ہے چراغوں سے دھواں بھی
Read MoreMonth: 2019 اگست
میر عبدالحئی تاباں
اکثر جو اس زمین کو ہوتا ہے زلزلہ شاید گڑا ہے جسم کسی بے قرار کا
Read Moreمیر عبدالحئی تاباں
شب کو پھرے وہ رشک ماہ، خانہ بہ خانہ کو بہ کو دن کو پھروں میں داد خواہ، خانہ بہ خانہ کو بہ کو
Read Moreجرات
روشن ہے اس طرح دل ویراں کا داغ ایک اجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک
Read Moreبیدل
جب دل کے آستاں پر عشق آن کر پکارا پردے سے یار بولا، بیدل کہاں ہے، ہم ہیں
Read MoreRobert Frost
Stopping by Woods on a Snowy Evening ……………………………… Whose woods these are I think I know His house is in the village though He will not see me stopping here To watch his woods fill up with snow My little horse must think it queer To stop without a farmhouse near Between the woods and frozen lake The darkest evening of the year He gives his harness bells a shake To ask if there is some mistake The only other sound’s the sweep Of easy wind and downy flake The…
Read Moreنوید صادق ۔۔۔ خالد احمد
غزل ۔۔۔۔ شاہد ماکلی۔۔۔۔ جاں کبھی دن سے، کبھی رات سے ٹکراتی ہے
توصیف تبسم کی شاعری میں فطرت کا کردار ……. توقیر عباس
انسان ازلی طور پر فطرت سے وابستہ ہے ۔ زمین پر زندگی کی ابتدا بھی پھل کھانے کی پاداش میں سزا کے طور پر ہوئی ۔یہ بھی طے ہے انسان جہاں رہ رہا ہو وہ فطرت سے جڑا ہوتا ہے اور وہاں کی فضا ، ماحول ، موسم اور اس کی شدت سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے ۔ لیکن ذرا غور کریں تو یہ ثابت کرنا ہر گز مشکل نہیں رہتا کہ فطرت ثقافتی اور دانش ورانہ مظہر ہے جس کا اظہار ہر…
Read Moreبے مہر موسم میں محبت ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر آصف علی قیصر
جب بھی میں کسی دوراہے پر پہنچتا ہوں ہمیشہ دائیں مڑتا ہوں۔ یہ میری عادت ہے مگر اُس شب میری اذیت پسندی مجھے گلی میں فرح کے گھر تک لے گئی۔ میں تیز تیز قدموں سے جو میری دھڑکنوں سے بھی تیز تھے، برقی قمقموں سے دہکتے اُس گھر کے سامنے سے جیسے بھاگ کر گزرا اور اگلے دوراہے سے سیدھے ہاتھ مڑ کرگیا۔ وہاں دنیا نابود ہوئی اور بے کراں وسعت کا حامل ایک سپاٹ میدان مجھے ملا۔ "یہ کیسے ممکن ہے؟ بھلا ایک ثانیے میں تمام دنیا کو…
Read More