شبیر (ع )میرے سینے میں دلگیر تیرا غم اِس کائنات میں مری جاگیر تیرا غم ہر ایک رنج و غم کا مداوا غمِ حسین (ع ) ہر اک ستم رسید کو اکسیر تیرا غم میرے حسین( ع ) تیری تلاوت سرِ سناں ذبحِ عظیم کی ہے وہ تفسیر تیرا غم ممکن کہاں ہے شامِ غریباں کو سوچنا ممکن کہاں کہ ہو سکے تحریر تیرا غم دل میں ہیں جاگزیں تری بس یاد کے نقوش آنکھوں میں ہے وہ خواب کہ تعبیر تیرا غم چاہوں بھی اور کیا؟ میں ترے غم…
Read MoreMonth: 2019 ستمبر
احمد فاروق
یاد ہے کُچھ تجھے بچھڑتے سَمے! کون تھا جس سبَب مِلے تھے ہم
Read Moreسلام…. رحمان حفیظ
دورِ ابطال میں احقاق کا معیار حسینؑ دارِ ظلمات میں ہے مطلعِ انوار حسینؑ دل مصفی ، نظر آئینہ، سخن گوہر دار زندگی کے لئے گنجینہء کردار حسینؑ یہ خوشی ہی تو مری زیست کا سرمایہ ہے میرا منصب ہے کہ ہُوں تیرا عزادار حسینؑ اس نے کیا کیا نہ جری دیکھےمحاذوں پہ، مگر فخر بس تجھ پہ کیا کرتی ہےتلوار ،حسینؑ دیکھ کر تیری شجاعت ، یہ موّرخ نے کہا یاد آتے ہیں مجھے حیدرِ کّرار ، حسینؑ ہے یہ ماتم تری عظمت کی شہادت، ورنہ کوئی دُوجے کا…
Read Moreسلام بہ حضورِ امامِ عالی مقام
یہی نہیں کہ فقط کربلا حسین سے ہے حسین سے ہیں محمد، خدا حسین سے ہے کسی نے پوچھ لیا کس کے دم سے ہے اسلام قضا و قدر نے جھک کر کہا: حسین سے ہے ہزار چشمہء آبِ رواں ہیں دنیا میں مگر یہ پیاس کا دریا بہا حسین سے ہے یہ مرغزارِ محمد، یہ لالہ زارِ علی شہادتوں کا یہ گلشن ہرا حسین سے ہے یہ اپنی منزلِ اول پہ لٹ چکا ہوتا رواں دواں جو ہے یہ قافلہ حسین سے ہے اگرچہ بیعَتِ باطل قبول دل سے…
Read Moreغلام حسین ساجد
مرے نجمِ خواب کے رُو بہ رُو کوئی شے نہیں مرے ڈھنگ کی یہ فلک ہے کشتِ غبار سا، یہ زمیں ہے پانی کے رنگ کی
Read Moreسلام….. محمد مختار علی
دل سے جیسے کوئی دلگیر سخن کرتا ہے ہم سے دائم غمِ شبّیرؑ سخن کرتا ہے وہی عُشاق ہی مقتل کی طرف جاتے ہیں جن سے آوازہء شمشیر سخن کرتا ہے سر ہے نیزے پہ مگر لب پہ ہیں جاری آیات کس طرح کاتبِ تقدیر سخن کرتا ہے دل سے مانگا ہے حرم میں کبھی ہونٹوں سے نہیں خامشی کو بھی وہ تعبیر، سخن کرتا ہے ہمہ تن گوش ہیں مجلس میں انیسؔ اور دبیرؔ مدحِ شبیرؑ میں اب میرؔ سخن کرتا ہے غم میں گویائی کا یارا ہے کسے،…
Read Moreسلام….. شمشیر حیدر
وہی سفر وہی صحرا دکھائی دیتا ہے حسین آج بھی تنہا دکھائی دیتا ہے بس اک چراغ ہوا تھا سرِ سناں روشن یہ سب اسی کا اجالا دکھائی دیتا ہے کوئی بھی ہو ، وه کہیں کا بھی رہنے والا ہو تجھے پکارے تو اپنا دکھائی دیتا ہے نظر کے ساتھ جو دل سے بھی دیکھ سکتا ہو اسی اسی کو یہ رستہ دکھائی دیتا ہے کبھی جو پیاس کا شمشیر ذکر کرتا ہوں تو لفظ لفظ میں دریا دکھائی دیتا ہے
Read Moreسلام…. توقیر عباس
روشن اس ایک فکر سے یہ کائنات ہے دل میں غمِ حسین نہیں ہے تو رات ہے کرتا ہے فیض یاب مجھے دشتِ کربلا باقی ہر ایک چیز تو نہرِ فرات ہے ایسے میں ان کے ذکر سے ملتی ہے زندگی جب چار سو اڑی ہوئی گردِ ممات ہے اسمِ یذید ہے کسی نقلی دوا کا نام ذکرِ حسین اصلِ حیات و نبات ہے
Read Moreمجید امجد
سلام اُن پہ، تہِ تیغ بھی جنھوں نے کہا جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
Read Moreبجناب امام عالی مقام علیہ السلام ….. خالد احمد
مدّاحیِ شبیرؑ میں آغازِ سخن ہے اجماعِ شرف آج سرِ برجِ دَہن ہے لب ہیں کہ دوپارہ صدفِ صبحِ چمن ہے وہ چال ہے یا حسنِ محبت کا چلن ہے تن ہے کہ مہ و مہر خجل ہوں اُسے دیکھے چہرہ ، سببِ زینت و زیبائشِ تن ہے ہم رنگِ سحر ہے، وہ مہِؑ شامِ غریباں ہم چشمِ غزالانِ بیابانِ ختن ہے اَبرو ہیں کہ قوسین پہ قوسین دھرے ہیں پلکیں ہیں کہ آنکھوں پہ حیا ابر فگن ہے توصیف کرے اصغر ؑ و اکبرؑ کی وہ کیسے؟ زینب کے…
Read More