قلم کو فخر کہ لکھتا ہے تیرے نام سلام مرے سخی! مرے آقا! مرے امام! سلام!
Read MoreMonth: 2019 ستمبر
سلام امام عالی مقام ع
ہوائے خطہِ کرب و بلا سے ملتی ہے متاعِ گریہ بھی گویا عطا سے ملتی ہے ہر ایک عہد کے مقتل میں آس جینے کی ترے وسیلہء صبر و رضا سے ملتی ہے نصیب یوں نہیں ہوتا ملالِ تشنہ لباں یہ بے کلی، یہ کسک التجا سے ملتی ہے اسی لیے تو در و بام ہیں اُجالے ہوئے کہ روشنی ترے مقتل سرا سے ملتی ہے سرِ افق ہے ترے خون سے لکھی تحریر ہر ایک شام خطِ کربلا سے ملتی ہے ہمارے درد پہ قدغن لگانے والو، سنو! تمہاری…
Read Moreحسین مجروح
وہی مہک تھی ہوا میں، سو ہم نے پوچھے بغیر پرائے شہر میں اُس کا مکان ڈھونڈ لیا
Read Moreبصیرت (مرثیہ) ….. خالد علیم
ہرگز نہیں گلشنِ صبا میرے لیے چلتی ہے سموم کی ہوا میرے لیے میں ایک مسلماں ہوں تو ہوگی تیّار ہر دور میں ایک کربلا میرے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ اے میرے جاں فگار دل! اے بے قرار دِل! ہر لحظہ خود نمائی ٔدُنیا سے منفعِل تجھ سے تو خوش نصیب ہے پتھر کی ایک سِل اُٹھی ہے کس خمیرسے تیری یہ آب و گِل دھڑکن ترے وجود کی دم ساز ہے تجھے ماتم لہو کا حلقۂ آواز ہے تجھے جب جانتا ہے عالمِ ہستی کو تو سراب یوںہی نہیں ہے یہ…
Read Moreسلام بہ کربلا ….. خالد علیم
اے فلکِ کربلا ، تشنہ لب و تشنہ کام دیکھ سرِ دشت ہے سبطِ رسولِ انامؐ قافلۂ صدق کا شاہ سوارِ عظیم راحلۂ صبر کا راہ برِ خوش خرام دیکھ تری خاک پر کس کا گرا ہے لہو کس نے لٹایا ہے گھر، کس کے جلے ہیں خیام اے نگہِ دشتِ شام! دیکھ ذرا غور سے اپنے شہیدوں کا خوں، اپنے اسیروں کی شام کس نے بتایا تجھے، کس نے دکھایا تجھے کذب بیانوں پہ ہے کارِ شجاعت حرام سبطِؓ نبی ؐ کے سوا، ابنِ علیؓ کے سوا کون ہوا…
Read Moreسلام….. ڈاکٹر خورشید رضوی
سلام…… ڈاکٹر خورشید رضوی
نذرانہ سلام بہ حضور شہیدانِ کربلا…. باقی احمد پوری
تہِ ریگ ِ رواں پانی ہے شاید ذرا ٹھہرو یہاں پانی ہے شاید فرات ِ وقت پر پہرے لگے ہیں لہو سے بھی گراں پانی ہے شاید کبھی تھا تخت اس کا پانیوں پر اب اس کا آسماں پانی ہے شاید خدا کا رازداں کوئی نہیں ہے خدا کا رازداں پانی ہے شاید جو سبط ِ ساقی ِ کوثر ہے دیکھو اسی کا امتحاں پانی ہے شاید یہ آتش میں گھرے خیمے، یہ آہیں سکینہ کی فغاں پانی ہے شاید ستم کی داستاں یہ بھی سناتا کہے کیا بے زباں…
Read Moreجلیل عالی
خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ شِمر نسلوں کی ملامت کا دھواں لایا ہے
Read More