سرِ نیزہ جو روشن ہو گیا ہے رسولِ پاک کے گھر کا دیا ہے اندھیری رات کی پوروں میں جگنو بہ اندازِ شرر جل بجھ رہا ہے بچھی تھی سیج تیروں کی، اُسی پر شہِ معصوم پیاسا سو گیا ہے ترے گھر میں جگہ کیا پائے دنیا ترا خیمہ نہیں، شہرِ وفا ہے اعزادارو! یہاں چلتے ہیں آنسو خریدارو! یہ بازارِ رضا ہے ہوائیں سر پٹخ کر رہ گئی ہیں چراغِ استقامت جل رہا ہے نجیب! اک شخص کی تشنہ لبی سے ابھی تک نم ورق تاریخ کا ہے (نجیب…
Read MoreMonth: 2019 ستمبر
عباس رضوی
یقیں کی راہ دکھاتے ہیں کربلا والے کہانیاں تو بہت ہیں خدا سے وابستہ
Read Moreمجید امجد
سلام اُن پہ، تہِ تیغ بھی جنھوں نے کہا جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
Read Moreکرب و بلا…… یوسف خالد
ہزار موسم گزر گئے ہیں ستم گروں کی جفا وہی ہے ابھی بھی دھرتی سلگ رہی ہے ابھی بھی آہ و بکا وہی ہے ابھی بھی ہر سو ہے سوگواری ابھی بھی ماتم بپا وہی ہے ابھی بھی مظلوم جل رہے ہیں ابھی بھی کرب و بلا وہی ہے امامِ عالی مقام! لیکن کہیں کہیں جو دیے ہیں روشن وفا شعاروں کے ان دیوں میں تمہاری سیرت کی روشنی ہے
Read Moreنجیب احمد
ہم ایسے بھی گئے گزرے نہیں ہیں ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے
Read Moreخالد احمد
یہ میں نہیں، مرا پَرتَو نہیں، یہ میں تو نہیں گماں سا کیوں مجھے گزرا؟ کہیں یہ میں تو نہیں مری طرح کہیں شائستۂ وفا ہی نہ ہو وہ شخص کتنا حسیں ہے، کہیں یہ میں تو نہیں کسی نگاہ کے بس کی رہی یہ لَو نہ یہ ضَو چراغ سا ہے تہِ آستیں، یہ میں تو نہیں دیارِ دل میں رُلانے پہ کون روتا ہے یہ سب ہیں اہلِ غم اپنے تئیں، یہ میں تو نہیں نہ ذکرِ سروِ چراغاں، نہ فکرِ طاق و رواق نہ ماہ، رُوکشِ داغِ…
Read Moreنیچے کون جائے— !! ۔۔۔۔۔ خالد علیم
رات کے بارہ — نہیں! — شاید ! گھڑی کی سوئیاں اک دوسرے سے چند لمحوں کی مسافت پر کھڑی ہیں سیڑھیوں کے ساتھ کمرے میں دھوأں سا بھر گیا ہے میز پر سگرٹ کے پیکٹ میں فقط، اک آخری سگرٹ بچا تھا، وہ بھی اب سلگا لیا ہے تیسری منزل سے نیچے سب دکانیں بند ہیں اور سر کے اوپر، چھت پہ خالی آسماں ہے رات لمبی رات ہے، سرما زدہ بستر میں ویرانی بچھی ہے آخری سگرٹ بھی آخر— آخری ہے ہاتھ کی پوروں میں جلتی راکھ بھرتی…
Read Moreہفت روزہ کلیم، ملتان۔ اشاعتِ خاص بیادِ حزیں صدیقی
ہفت روزہ کلیم، ملتان۔۔ اشاعتِ خاص بیادِ حزیں صدیقی Download
Read Moreقرطاس، شجاع آباد: اشاعتِ خاص: بیاد محمد یسین خاں ثاقب
قرطاس۔شجاع آباد۔ اشاعتِ خاص بیاد محمد یسین خان ثاقب Download
Read Moreداغ دہلوی
عشق میں دل کہیں، حواس کہیں ایسے رہتے ہیں اپنے پاس کہیں کون پردے میں چھپ کے بیٹھا ہے بھر کے جاتا ہے کیوں گلاس کہیں مجھ کو ہے اس سے احتمالِ وفا نہ غلط ہو مرا قیاس کہیں زہر کھاتے ہیں تنگ آ کر ہم یہ دوا آئے دل کو راس کہیں بزم میں داغ گر نہیں تو نہ ہو یہیں ہو گا وہ آس پاس کہیں
Read More