میر تقی میر

استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں عشق نے آگ یہ  لگائی ہے

Read More

غزل ۔۔۔ میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں ۔۔۔ سید آلِ احمد

غزل ۔۔۔۔ میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں زندہ ہوں مگر یاد کے پتھر کی طرح ہوں آثار ہوں اب کہنہ روایاتِ وفا کا اک گونج ہوں اور گنبدِ بے دَر کی طرح ہوں اک عمر دلِ لالہ رُخاں پر رہا حاکم اب یادِ مہ و سال کے پیکر کی طرح ہوں کس کرب سے تخلیق کا در بند کیا ہے مت پوچھ کہ صحرا میں بھرے گھر کی طرح ہوں بپھرے تو کنارے نظر آتے نہیں جس کے میں ضبط کے اُس ٹھہرے سمندر کی طرح ہوں…

Read More

ماہ نامہ فانوس : اپریل ، مئی 2018ء

(Download) ماہ نامہ فانوس اپریل۔مئی 2018ء ……………. ﷽   فہرست ……….. اداریہ: شعاعیں: خالد علیم نعتیہ قصیدہ نعت: خالد علیم مقالات بانی: ایک نامکمل تخلیقی سفر: فضیل جعفری شخص و عکس ابن صفی: شکیل صدیقی نظمیں یہی ہے میرا وطن: عبدالعزیز خالد جبر: حامد یزدانی یوم الحساب: نوید صادق غزلیں حامد یزدانی، خورشید بیگ میلسوی، جاویدقاسم، نوید مرزا، آفتاب خاں، ڈاکٹر نبیل احمد نبیل، عبید الرحمٰن نیازی، خالد علیم افسانہ گورکن: راجہ یوسف میرے لفظ میری زندگی: حمیرا تبسم تراجم ایک قتل کی واردات: بورخیس/ محمد عاصم بٹ فانوس نما…

Read More

رقص ۔۔۔۔۔ راجیندر منچندا بانی

ناچ، ہاں ناچ کہ ہر شورش و ہنگامہ پر پھیل جائے تری جھن جھن کاحسیں پیراہن ناچ، ہاں ناچ کہ سینے میں ترے ایک موتی کی طرح راز زمانے کا سمٹ کر رہ جائے بازوئوں کو کبھی ہونے دے دراز جمع کرنے دے خد و خال کبھی اپنی حسیں آنکھوں کو فرشِ آواز پہ رکھ اپنے پُراسرار قدم اور چمکتے ہوئے سنگیت کا جاود پی جا! ناچ صد نشۂّ شادابی سے ناچتی جا اسی مستی میں کہ تو ایک کنول بن جائے اور تجھ کو کسی تالاب کے سینے میں اُتار…

Read More

سجاد باقر رضوی

بقدرِ حوصلہ کوئی کہیں، کوئی کہیں تک ہے سفر میں راہ و منزل کا تعین بھی یہیں تک ہے نہ ہو انکار تو اثبات کا پہلو ہی کیوں نکلے مرے اصرار میں طاقت فقط تیری نہیں تک ہے اُدھر وہ بات خوشبو کی طرح اُڑتی تھی گلیوں میں اِدھر میں یہ سمجھتا تھا کہ میرے ہم نشیں تک ہے نہیں کوتاہ دستی کا گلہ، اتنا غنیمت ہے پہنچ ہاتھوں کی اپنے، اپنے جیب و آستیں تک ہے سیاہی دل کی پھوٹے گی تو پھر نس نس سے پھوٹے گی غلامو…

Read More

احمد فاروق

سُن رہا ہو نہ کوئی چُپکے سے بات کرتے ہُوئے گھبراتے ہیں

Read More

رحمان حفیظ

مدتوں میں بہَم ہوئے ماضی و حال دیر تک ذہن میں پَر فشاں رہی ، گردِ ملال دیر تک رہ نہیں پائے گی یہی صورتِ حال دیر تک کس کا کمال دیر تک ! کس کا زوال دیر تک ! تیغ بکف سوار تو گرد اُڑا کے چل دیے کانپتا رہ گیا وہاں ایک نہال دیر تک اس کا جواب بھی وہی ، ایک طویل خامشی دہر میں گونجتا رہا میرا سوال دیر تک آنکھ وہیں ٹھہر گئی ، دل میں سکوت ہو گیا اور پھر آ نہیں سکا اپنا…

Read More

کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد :26, شمارہ: 9

Download کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد 26, شمارہ 9  

Read More

جلیل عالی

ہوائے ہجر نے کیسا کمال کر دیا ہے پرے غبارِ غمِ ماہ و سال کر دیا ہے یہ اتفاق نہیں، اہتمام ہے اُس کا جلال کو بھی جو جزوِ جمال کر دیا ہے بہشتِ شوق پہ بارود بارشوں کے ہیں دن سو حرف حرف کو شعلہ مثال کر دیا ہے دفاعِ شہرِ تمنا کی آخری حد پر بموں کے سامنے سینوں کو ڈھال کر دیا ہے کیا ہے نذرِ جہاں ہم نے جو سرِ قرطاس یہ نقدِ حرف نہیں دل نکال کر دیا ہے

Read More