نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ارشاد نیازی

اس دل کو کہاں موت کہاں خوفِ فنا ہو جس دل کا مقدر ترا نقشِ کفِ پا ہو پلکوں پہ تریؐ دید کا امکان سجا ہو اور لب پہ فقط ایک صدا صلی علی ہو اتریں مرے آنگن میں بھی اب سبز پرندے طیبہ کی ہواؤں سے مرا پیڑ ہرا ہو اس پیکرِ صد ناز کو کہتے ہیں محمدؐ جس پیکرِ صد ناز میں خود آپ خدا ہو ہاتھوں میں لیے آئیں گے کشکول فرشتے خیرات جو زہراؑ ترے باباؐ سے عطا ہو کس طرح کوئی روتے ہوئے دل کو…

Read More

لبنیٰ صفدر ۔۔۔ کچھ سمجھ لوں، پرکھ تولوں کہ نہیں

کچھ سمجھ لوں، پرکھ تولوں کہ نہیں پھر بتائوں گی تیری ہوں کہ نہیں تو مری آنکھ میں تو جھانک ذرا یہ سمندر ہے نیلگوں کہ نہیں میں نے خود کو گلاب کرلیا ہے تیرے گلدان میں سجوں کہ نہیں اِک ستارہ سا تیری راتوں میں صبحِ نو کی کرن بنوں کہ نہیں جب بچھڑنے لگو بتا دینا میں صدائیں بھی تم کودُوں کہ نہیں میں ترا نام اپنے نام کے ساتھ مالکِ جان و دل! لکھوں کہ نہیں ہجر تیرا جو مجھ کو لاحق ہے اس کو تا عمر…

Read More

لبنیٰ صفدر ۔۔۔ خزاں کی شام کو زخمِ بہار کس نے کیا

خزاں کی شام کو زخمِ بہار کس نے کیا ہر ایک ریشۂ گْل رنگ بار کس نے کیا خوشی وصال کی ساری سمیٹ لی تو نے فراق لمحوں کو بولو شمار کس نے کیا ہر ایک شخص یہاں بدگمان تجھ سے تھا نگاہِ یار! ترا اعتبار کس نے کیا متاعِ جاں کو کیا خاک کس نے تیرے لیے یہ خاکِ جاں ہی بتائے گی پیار کس نے کیا وفا میں جان لٹانے کے بعد بھی لْبنیٰ مرے خلوصِ محبت پہ وار کس نے کیا

Read More

خالق آرزو ۔۔۔ ہائیکو

یہ میرے دو نین ساجن تیری فرقت میں رو رو کرتے بین ………….. کیونکر دیکھے سپنے خاک میں تجھ کو گاڑھیں گے لوگ یہ تیرے اپنے ………………….. دل کا چین بتانے والے تجھ کو اندھا کریں گے اک دن تجھ سے نین لڑانے والے

Read More

صائمہ اسحاق ۔۔۔ چپکے چپکے جھانک رہا تھا دروازہ

چپکے چپکے جھانک رہا تھا دروازہ دیواروں کو ہانک رہا تھا دروازہ مجھ کو رستہ دینے کی سرمستی میں خود پر تارے ٹانک رہا تھا دروازہ تم آئے تو دیپ جلے ہیں چوکھٹ پر ورنہ مٹی پھانک رہا تھا دروازہ ٹاٹ میں مخمل کا پیوند نہ لگ جائے گھر کی قیمت ٹانک رہا تھا دروازہ داغ لگے جب انگنائی کی چادر پر گھر کی لجّاڈھانک رہا تھا دروازہ

Read More

صائمہ اسحاق ۔۔۔ بند بنا کر روک دیا ہے باغی کو

بند بنا کر روک دیا ہے باغی کو سرکش ہوتی خواہش کی آزادی کو محرم ہونے والا پیڑ سمجھتا ہے بات کی تلخی کھاتی ہے شادابی کو رفتہ رفتہ سب معمول پہ آئے گا وقت لگے گا سہنے میں بر بادی کو اک نہ اک دن پچھتاوا کھا جائے گا سب نے پیچھے چھوڑ دیا ہے ساتھی کو دور کہیں شہروں میں نہریں کھودی ہیں تب جا کر گھر لائے ہیں سیرابی کو خوف نے سب آنکھیں بے حس کر ڈالی تھیں جج نے آخر چھوڑ دیا اپھرادی کو شام…

Read More

منفعت عباس رضوی ۔۔۔ کس کی قسمت میں غم نہیں ہوتے

کس کی قسمت میں غم نہیں ہوتے غم چھپانے سے کم نہیں ہوتے اک زمانہ تھا خون روتے تھے اب تو دامن بھی نم نہیں ہوتے اور پھر جب نگاہ ملتی ہے تم تو ہوتے ہو ہم نہیں ہوتے ہم تو دریا کے دو کنارے ہیں اور کنارے بہم نہیں ہوتے تم نے آنکھوں سے جو کیے شکوے وہ سپردِ قلم نہیں ہوتے ہم وہ خود سر ہیں جن کے سر رضوی کٹ تو جاتے ہیں خم نہیں ہوتے

Read More

منفعت عباس رضوی ۔۔۔ کون تھے؟ غیر نہ تھے، اپنے ہی ماں جاے تھے

کون تھے؟ غیر نہ تھے، اپنے ہی ماں جاے تھے یوں مرے شہر پہ اپنوں نے ستم ڈھاے تھے ہم جہاں رہتے تھے وہ شہرِ نگاراں تھا کبھی ہم اسی شہر سے با دیدۂ نم آے تھے وہ اندھیرا تھا کے دم توڑ چکے تھے ساے لوگ اُس شہر کے جگنو بھی چُرا لاے تھے ایک اک کر کے بُجھے جاتے تھے روشن تارے کتنے ہی چاند مرے شہر کے گہناے تھے ٹاٹ کی اوٹ سے اب کون پکارے گا ہمیں رفتگاں رضوی سبھی یاد بہت آے تھے

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ آشنا میرے مری بات جو مانے ہوتے

آشنا میرے مری بات جو مانے ہوتے ساتھ چلنے کے لیے آج زمانے ہوتے تو مری راہ کی دیوار بنا ہے کب سے ورنہ ہر لب پہ مرے آج فسانے ہوتے کتنا انمول بِکا حُسن ترا گلیوں میں میں ہی لے لیتا اگر پاس خزانے ہوتے تُو شبِ غم کی اذیت سے جو گزرا ہوتا دوست ایسے نہ ترے حیلے، بَہانے ہوتے اَب جو آسائشیں حاصل ہیں تو یہ سوچتا ہُوں کاش ہمراہ مرے دوست پُرانے ہوتے فیصلہ جس نے بہت سخت سنایا قائل کاش اُس نے مرے حالات بھی…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ دِل سمندر تھا مگر غم بھی ہَوا جیسا تھا

دِل سمندر تھا مگر غم بھی ہَوا جیسا تھا جو بھی لمحہ تھا میسر وہ سزا جیسا تھا اُس کے سانسوں کی حرارت سے خبر ملتی تھی میرے ماحول میں وہ شخص صدا جیسا تھا میں تہی دست اُسی شہر سے لوٹ آیا ہُوں وہ کہ جس شہر کا ہر شخص خُدا جیسا تھا ڈھانپ رکھا تھا سرِ شہر برہنہ اُس نے جسم سے لپٹا ہوا کوئی قبا جیسا تھا وقت نے چھین لیا اُس کو بھی آخر قائل وہ جو کشکولِ تمنا میں عطا جیسا تھا

Read More