حسرت سے ہم بہ دیدِۂ نم دیکھتے رہے روکے نہ اس نے بڑھتے قدم دیکھتے رہے لفظوں میں حُسنِ یار سمیٹوں تو کس طرح حیرت سے مجھ کو لوح و قلم دیکھتے رہے میرے علاوہ سب کی طرف دیکھتا تھا وہ محفل میں شوق سے جسے ہم دیکھتے رہے یہ اور بات خود نظر آئے نہ وہ کہیں ہوتے رہے جو ان کے کرم دیکھتے رہے ٹوٹے ہیں آج پر، تو گرے ہیں زمین پر اب تک بلندیوں کو ہی ہم دیکھتے رہے کرب و بلا میں شامِ غریباں کی…
Read MoreMonth: 2021 اگست
رضا اللہ حیدر ۔۔۔ سوادِ گل میں ہے خوشبو براجمان ابھی
سوادِ گل میں ہے خوشبو براجمان ابھی نہ باغ بیچنے کی باغبان ٹھان ابھی ہمیں ٹھہرنا نہیں ہے گلاب سایوں میں ہماری راہ میں باقی ہیں امتحان ابھی کہاں وفائوں میں سُرخی لہو کی شامل ہے اسی لیے تو ادھوری ہے داستان ابھی ہوائے تند مسلسل ہمارے در پے ہے ہمارے پائوں کے نیچے رہے چٹان ابھی رضا یہ زینت و تزئیں چمن کی ہم سے ہے جو چاہیں ہم تو پڑے پائوں باغبان ابھی
Read Moreرضا اللہ حیدر ۔۔۔ درد کا کوئی نہ یاں درماں کرے
درد کا کوئی نہ یاں درماں کرے جو بھی آئے زخم کو عریاں کرے زندگی بھی تو وفا کرتی نہیں موت ہی سے یوں گلہ انساں کرے میرے گلشن میں اُداسی چھا گئی کوئی آئے بلبلیں رقصاں کرے راستہ تو نے چنا ہے پُرخطر تیری تکلیفیں خدا آساں کرے وہ تو بیٹھا ہے ہوا کے دوش پر کیا کوئی دل کا اسے مہماں کرے زندگانی کے مسائل بڑھ گئے کوئی ذکرِ کاکلِ پیماں کرے بھیگے موسم میں لکھے غزلیں رضا اور اُس کی یاد کو عنواں کرے
Read Moreازور شیرازی ۔۔۔ ہم پھر بھی چاہتے ہیں کہ تیری زباں کھلے
ہم پھر بھی چاہتے ہیں کہ تیری زباں کھلے گرچہ پڑے ہیں شہد کے سب مرتباں کھلے اے دوست! یہ عوام نہیں ہیں ہجوم ہیں کچھ سوچ کر دیا کرو اتنے بیاں کھلے تجھ کو بتا رہا ہوں شراکت سے پیشتر ہوتے ہیں کاروبار میں سود و زیاں کھلے اب بھی زمیں پہ چلتا ہوں آہستگی کے ساتھ گرچہ زمانہ بیت گیا بیڑیاں کھلے دو مرلے کے فلیٹ میں کل خاندان ہے میں کیسے مان لوں ترے کون و مکاں کھلے تاعمر تو گھرا رہے یاروں کے درمیاں تجھ پر…
Read Moreازور شیرازی ۔۔۔ اس گل بدن کو چوم کے شب بار بار میں
اس گل بدن کو چوم کے شب بار بار میں کرلوں گا اپنے آپ کو باغ و بہار میں افسوس ہے کہ کوئی مدد کر نہیں سکا سنتا ہی رہ گیا ہوں کسی کی پکار میں چہرہ شناس ہونے کا دعوی اسے بھی ہے جس کو دکھائی دیتا نہیں سوگوار میں ہر ایک کو تلاش ہے راہِ فرار کی چھوڑوں نہ تیرے درد کا لیکن مدار میں اتنا پتا تو چل گیا دوزخ سے کم نہیں رہتا ہوں جس جہان میں پروردگار میں آتے ہیں سب غریب کی کٹیا میں…
Read Moreخالق آرزو ۔۔۔ جبھی تو ہم اکیلے ہیں
جبھی تو ہم اکیلے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفا میں ہم اصولوں پر کبھی سودا نہیں کرتے ضرورت کو محبت کے سہانے لفظ پہنا کر وفاداری کی سرحد پر نجانے کتنے ہی چہرے اسی باعث ہمیں گھیرے ہوئے کتنے جھمیلے ہیں جبھی تو ہم اکیلے ہیں
Read Moreآسناتھ کنول ۔۔۔ اے ہنر آشنا! ہنر خاموش!
اے ہنر آشنا! ہنر خاموش! کیوں ترے ضبط کا ہے در خاموش جب بلائیں زمین پر اُتریں کیوں رہا سب کا سب نگر خاموش نطق و لب پر بھی نیند طاری ہے اور تری آنکھ کا سحر خاموش نوچتی پھر رہی ہے ذہنوں کو چیختی کاٹتی نظر خاموش چپ ہیں صحرا بھی اور دریا بھی موج در موج ہے ڈگر خاموش وہ ہمالہ کا ایک جنگل تھا اور جنگل بھی اس قدر خاموش کیسے چُپ چاپ دونوں کاٹ گئے زندگی کا حسیں سفر خاموش آس کا اک دیا جلا تو…
Read Moreآسناتھ کنول ۔۔۔ ٹوٹتے رہنے کے آزار میں آ جاتے ہیں
ٹوٹتے رہنے کے آزار میں آ جاتے ہیں کتنے بھولے ہیں ترے پیار میں آ جاتے ہیں ماضی و حال کے سب زخم بھلاتے ہوئے ہم دیکھ لیں تجھ کو تو سنسار میں آ جاتے ہیں سوچتے رہنے سے جنت نہیں ملنے والی ہم ترے حلقہ آثار میں آ جاتے ہیں اپنے ہی دھیان میں ڈوبے ہوئے منزل کی طرف کیوں سمند ر میری رفتار میں آ جاتے ہیں ہم ہوائوں کی طرح خانہ بجاں پھرتے ہیں کسی در میں کسی دیوار میں آ جاتے ہیں یہ ستم کم تو…
Read Moreسہیل یار ۔۔۔ اِس دور میں بھی عشق کرے گا مرے گا کیا
اِس دور میں بھی عشق کرے گا مرے گا کیا تُو نوکری اگر نہ کرے گا کرے گا کیا انجام دوسروں کا یہاں دیکھتا ہوں جب میں سوچتا ہوں عشق میں میرا بنے گا کیا تھوڑا بہت دماغ سے لینا پڑے گا کام دل ہی تمام فیصلے کرتا رہے گا کیا اُس کے بغیر بھی تو کوئی زندگی نہیں اُس کے بغیر عمر بھر اب تُو جیے گا کیا گر شاعری سے بادہ و مینا نکال دیں اس میں نصیحتوں کے علاوہ بچے گا کیا جس گلشنِ سخن کے ہوں…
Read Moreامین کنجاہی ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔۔۔ اب اپنی تلاش میں نکلیں گے اور من کے اندر جھانکیں گے جو عمر بتائی دنیا میں اس عمر کی کوئی بات نہیں مجھے یار نے یہ بتلایا ہے دنیاداری دھوکا ہے تم اس کے جال میں مت آنا تم اپنی کھوج میں نکل پڑو اب اس نگری میں جانا ہے جہاں جسم کی کوئی ذات نہیں جہاں سانسوں کو بھی مات نہیں جہاں کوئی دن اور رات نہیں جہاں حرفوں کی اوقات نہیں جہاں خاموشی لب کھولتی ہے
Read More