اکرم جاذب … تمام رات وہ مجھ سے الگ ہوا نہیں ہے

تمام رات وہ مجھ سے الگ ہوا نہیں ہے یہ خواب ہے کہ حقیقت مجھے پتہ نہیں ہے کسی کا لمس مسیحائی کر رہا ہے مری سلگتا جسم بھی اب وقفِ ابتلا نہیں ہے چھپا رہا ہے مجھے ڈھانپ ڈھانپ کر کس سے ہمارے ساتھ اگر کوئی تیسرا نہیں ہے میں چھو کے دیکھ رہا ہوں مہکتی سانسوں کو یقین آنے لگا ہے کہ واہمہ نہیں ہے ہمارے درمیاں اب کچھ نہیں رہا حائل بدن ہے اور بدن کا اتہ پتہ نہیں ہے تو کیا یہ پیار میں الہام ہو…

Read More

اکرم جاذب ۔۔۔ فقط اڑائے گا غبار، آپ جائیے

فقط اڑائے گا غبار، آپ جائیے یہ عشق ہے جنوں شعار، آپ جائیے ملال سازِ درد کا مجھے تو راس ہے جو بج اٹھے ہیں دل کے تار، آپ جائیے تمیزِ نیک و بد ہی بزم میں نہیں رہی عجب اڑی ہے دھول یار، آپ جائیے یہ کیا ضرور راحتیں ہی صرف دے سکوں میں پا شکستہ، دل فگار، آپ جائیے فرار دو گھڑی کا بھی محال عشق میں اور ایک دل ہے غم ہزار، آپ جائیے لڑائیے نہیں یہ دائو پیچ عقل کے مرے جنوں سے بار بار، آپ…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اپنے آپ کو جانا نئیں

اپنے آپ کو جانا نئیں اس نے اب تک مانا نئیں تو نے میرا حق کھایا کیا تو میرا کانا نئیں دل کی باتیں غور سے سن یہ کوئی گانا وانا نئیں تیرے کسی بھی اپنے نے تیرا بوجھ اٹھانا نئیں اس کے بارے مت پوچھو جس رستے پر جانا نئیں ملنے سے کیوں ڈرتے ہو میں نے کوئی کھا جانا نئیں مقصد شعر سنانا ہے محفل کو گرمانا نئیں تاج پہ نظریں رکھتا ہے اس کے سر پر آنا نئیں نام صغیر بتائیں کیوں جب اس نے پہچانا نئیں

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ ہر ایک شخص کو میرا ہنر دکھائی دیا

ہر ایک شخص کو میرا ہنر دکھائی دیا تو میرے ساتھ نہیں تھا مگر دکھائی دیا تب اپنے آپ سے اتنا میں شرمسار ہوا جب اک بشر کے علاوہ بشر دکھائی دیا خدا کو ماں ہی سمجھ کے جب اس سے لڑ پڑا میں خدا کا تب جو مجھے درگزر دکھائی دیا میں شہر والوں کی بینائی کیا کہوں کہ انھیں جو میرا خیر کا پہلو تھا شَر دکھائی دیا عجب سفر ہے کہ اب ختم ہی نہیں ہوتا جو ابتدا میں بہت مختصر دکھائی دیا اسے بھلانے کی کوشش…

Read More

شہاب اللہ شہاب … میری باتیں سن کے پر سب پنچھیوں کے جھڑ گئے

میری باتیں سن کے پر سب پنچھیوں کے جھڑ گئے غم کی ارزانی سے پتے ٹہنیوں کے سڑ گئے اس کی منزل اتنی مشکل تھی بتاؤں کیا تجھے یاد آئی جب کبھی، پاؤں پہ چھالے پڑ گئے میں ذرا سا ہی رکا تھا اک شجر کے سائے میں درد کو محسوس کرکے برگ سارے جھڑ گئے علم جن کے پاس تھا سو وہ سراپا عجز تھے دور تھے منطق سے جو وہ اپنی ضد پر اڑ گئے زہر میں کچھ اس قدر ڈوبے ہوئے الفاظ تھے آئنہ دیکھا تومیرے ہونٹ…

Read More

شہاب اللہ شہاب ۔۔۔ ترے ہونٹوں پہ جب میرے لیے حرفِ دعا ہوگا

ترے ہونٹوں پہ جب میرے لیے حرفِ دعا ہوگا مرے دل میں تری خاطر وفاؤں کا صلہ ہوگا یہاں تو خامشی کے میں نے پردے پھاڑ ڈالے ہیں یہاں پتھر اگر ہو گا یقینا بولتا ہو گا دیاجلتا تھا بچپن سے تری یادوں کا جودل میں ہواؤں سے الجھ کر وہ دیا آخر بجھا ہوگا یہ راہیں عشق کی مجھ کو فقط اتنا بتاتی ہیں مسافر اپنی منزل سے ہی آگے جا چکا ہوگا علاجِ بے خودی سمجھا ہے میرا دل یہی آخر جو سمجھاتاہے پاگل کو وہ دیوانہ رہا…

Read More

شاہنواز زیدی ۔۔۔ پیپل

پیپل ۔۔۔۔۔۔ ملی ہے زندگی ہم کو مگر پوری نہیں آدھی ادھوری سی مرن جوگی کہ جیسے گھر کے پرنالے میں پیپل کا کوئی پودا نکل آئے وہ پودا جس کا کوئی کل نہیں ہوتا جو پیپل ہو کے بھی پیپل نہیں ہوتا تناور پیڑ بننا جس کا خوابوں میں ہی ممکن ہے چلو ہم خواب ہی دیکھیں کسی روشن زمانے کے کسی خوشحال دنیا کے جہاں غربت نہ ہو نفرت نہ ہو مذہب نہ ہو انسانیت ہو سب برابر ہوں، ابھی اعمال پر تلوار چلتی ہے ابھی خوابوں پہ…

Read More

شاہنواز زیدی ۔۔۔ تیرے چہرے سے شروع، اور ترے چہرے پہ تمام

تیرے چہرے سے شروع، اور ترے چہرے پہ تمام میری تصویر کشی، گائیکی اور میرا کلام تیری تخلیق سے ظاہر ہے کہ تو ہے موجود نامور ہوں تو مصور کبھی لکھتے نہیں نام مجھے دے دے لب پیمانہ ابھرتا مہتاب اور درِ یار کی دہلیز پہ جھکتی ہوئی شام اسپِ خوددار سے سیکھو مرے محبوب کے ناز زردۂ گل سے اٹھاؤ مرے پی کے پیغام حرف رہ جاتے ہیں، مفہوم بدل جاتے ہیں آنکھ والوں کو تو کافی ہے ترا جلوۂ عام موت کے بعد اگر بن نہیں سکتا واحد…

Read More

فرحانہ عنبر ۔۔۔ اندیشہ

اندیشہ۔۔۔۔۔۔سنو، اے زندگی!ٹھہرو،وہ مجھ سے ملنے آیا ہےمرے اندر بہت سی ان کہی پیاسی تمنائوں نے پھر سے سر اٹھایا ہےکہیں یادوں کے ساحل پر پڑی کچھ سیپیوں کو میں نے کتنے پیار سےچاہت کی ڈوری میں پرویا ہےیہ ڈوری ٹوٹ نہ جائےوہ مجھ سے روٹھ نہ جائےمرے ہاتھوں سے دامن عشق کا پھر چھوٹ نہ جائےدھنک رنگی فضائوں سے اترتیدل دریچے پر صدا دیتی وہی مانوس سی آواز پہ دل کھنچتا جاتا ہےکہیں وہ لوٹ نہ جائےیہ سپنا ٹوٹ نہ جائےسنو، اے زندگی! ٹھہرووہ مجھ سے ملنے آیا ہے

Read More

شاذیہ مفتی ۔۔۔ الائو

الائو ۔۔۔۔ دھند کی اوڑھنی کو سرکاتی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی گاہے رکتی ہے، گاہے چلتی ہے رات اپنے کسی سفر پر ہے سوکھی، گیلی سلگتی سانسوں سے ناگہاں ایک شعلہ اٹھتا ہے جیسے وہ شب کے شامیانے میں کوئی گہرا شگاف ڈالے گا شعلگی — نارسائی کی سوتن بجھتے بجھتے بھڑکنے لگتی ہے سرد مہری کی جامنی چادر خواب کے تن پہ کسمساتی ہے آرزو — بانسری کی مدّھم لَے دل پہ چپکے سے پانو دھرتی ہے دفعتاً دھیان کے جھروکے سے ایک کوندا لپک دکھاتا ہے کاش…

Read More