افتخار شاہد ۔۔۔ منظر نیا تو کوئی دکھایا نہیں گیا

منظر نیا تو کوئی دکھایا نہیں گیا اچھا ہوا کہ پھر سے رلایا نہیں گیا یاروں سے ضبطِ حال کے تالے نہیں کھلے ہم سے بھی ساز دل کا بجایا نہیں گیا ترکِ تعلقات کی قینچی تو چل گئی لیکن وہ شخص دل سے بھلایا نہیں گیا شانے سے اس کا ہاتھ بھی میں نے ہٹا دیا یہ بوجھ آج مجھ سے اٹھایا نہیں گیا ڈستی رہی نظر کو چراغوں کی روشنی دل کا دیا کسی سے جلایا نہیں گیا شاہد وہ بادبانِ سماعت کھلے تو تھے ہم سے ہی…

Read More

سرور فرحان ۔۔۔ فراق و وصل ہی کے تذکروں میں زندگی گزری

فراق و وصل ہی کے تذکروں میں زندگی گزری ترے حسنِ نظر کے دائروں میں زندگی گزری نہ جانے کیا کہا اظہارِ الفت پر ستم گر نے برستے آنسوئوں کے ساونوں میں زندگی گزری مرے مجموعہِ افکار میں عکسِ طرب کیسا؟ مری تو لمحہ لمحہ سانحوں میں زندگی گزری گلہ شکوہ کروں کیا بحرِ غم کی بیکرانی کا تری موجِ تبسم کی حدوں میں زندگی گزری نظر آئے نہیں چشمِ انا کو روز و شب اپنے ہمیشہ دوسروں پر تبصروں میں زندگی گزری بھلا اچھے بُرے کا فیصلہ ہم کر…

Read More

طلعت شبیر ۔۔۔ پھر اُفق پر دل جڑا تھا شام سے

پھر اُفق پر دل جڑا تھا شام سے اور میں تنہا کھڑا تھا شام سے آرزو مفلس کی یوں پھر سو گئی خواب بھی اوندھا پڑا تھا شام سے ڈوبتا سورج، جدائی آ پڑی! وقت میرا پھر کڑا تھا شام سے قافلہ شبیر کا گزرا ہے کیا؟ پھر کوئی خیمہ پڑا تھا شام سے رات بھی مغموم ہوتی جائے ہے کیا فسانہ پھر گھڑا تھا شام سے میں ہوں داعی روشنی کا اس لیے یاد ہے مجھ کو لڑا تھا شام سے ہجرتوں کے سارے منظر کھو گئے ایک منظر…

Read More

جواد احمد راسخ ۔۔۔ اے چشمِ زدن! تیرا سفر ہو کے رہے گا

اے چشمِ زدن! تیرا سفر ہو کے رہے گا دل آبلہ پا برق و شرر ہو کے رہے گا محروم محبت سے ہے دل سوختہ ساماں اب کس کی محبت کا اثر ہو کے رہے گا پھر شوقِ تمنا لیے جاتا ہے اُسی سمت دل پھر سے خجل چاک جگر ہو کے رہے گا پھرتا ہوں لیے دہر میں سورج کی طرح دل گزرے گی یہ شب نورِ سحر ہو کے رہے گا گلشن میں جو اپنوں ہی سے بیگانہ ہوا ہو وہ لالہ کبھی گردِ سفر ہو کے رہے…

Read More

طلعت شبیر ۔۔۔ اگلا جنم (نثری نظم)

اگلا جنم ۔۔۔۔۔۔ روایتوں کی قید میں آنکھ کھلی نہ دل اپنے بس میں تھا نہ جسم پہ کوئی دسترس خواب تعبیروں کے تعاقب میں جنگل جنگل اُلجھے رہے خواہشیں موسموں کی طرح بیت گئیں اور زندگی اگلے جنم پر تکیہ کیے گزر گئی

Read More

امجد بابر ۔۔۔ الفاظ کے منتر (نثری نظم)

الفاظ کے منتر ………….. دیکھتے دیکھتے بستر پر سانپ بن جاتا ہے درخت پر بیٹھا طوطا غائب ہو جاتا ہے خواب میں لڑکی کے بال جل جاتے ہیں آسمان سے پتھروں کی بارش ہونے لگتی ہے زمین وجد میں گنگنانے لگتی ہے دیکھتے دیکھتے ہاتھ لمبے ہو جاتے ہیں آنکھیں نکتوں میں دھنس جاتی ہیں لفظ رنگوں کے برش سے چپک جاتے ہیں گھر دیواروں کے تکلف سے بھر جاتے ہیں دیکھتے دیکھتے خواب کے معنی نکل آتے ہیں جگنوئوں سے اندھیرے ٹپکتے ہیں دریا سے ریت کی بدبو آتی…

Read More

بشیر احمد حبیب ۔۔۔ وہ چھپ بھی جائے تو مجھ کو دکھائی دیتا ہے

وہ چھپ بھی جائے تو مجھ کو دکھائی دیتا ہے خموشیوں میں مجھے سب سنائی دیتا ہے وہ اپنے ہونٹوں کی ہلکی سی ایک جنبش سے گلِ خیال کو کیا کیا رسائی دیتا ہے وہ اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے مے کدوں کے بیچ کبھی کبھار عجب آشنائی دیتا ہے طوافِ ذات عجب راس آگیا ہے اسے گلی میں، شہر میں کم کم دکھائی دیتا ہے کبھی کبھار تو بس یوں ہی آزمانے کو وہ پاس رہ کے مجھے کم نمائی دیتا ہے

Read More

نوید سروش ۔۔۔ منظر رہا کبھی پسِ منظر نہیں رہا

منظر رہا کبھی پسِ منظر نہیں رہا ویسے بھی دوستوں سے میں چھپ کر نہیں رہا مجھ سے خفا ہوئے ترے دریا تو یہ ہُوا پہلے کی طرح جوشِ سمندر نہیں رہا غیروں کا کیا ہے اپنے بھی اپنے نہیں رہے جب اوج پر ہمارا مقدر نہیں رہا سرگرداں آج ہے کوئی میرے لیے سروش جب کہ میں آج خود کو میسر نہیں رہا

Read More

نوید سروش ۔۔۔ جب کوئی دریچہ نہ پرندہ نہ شجر ہے

جب کوئی دریچہ نہ پرندہ نہ شجر ہے پھر سوچیے کس طور یہاں زندہ بشر ہے معلوم یہی ہوتا ہے سنسان کھنڈر ہے گویا کوئی تاریخ کا آباد نگر ہے اُس سمت کشش کون سی لے جاتی ہے دل کو یادوں کے جزیرے میں جو ویران سا گھر ہے ہاتھوں میں صداقت کا علم لے کے چلا ہوں ہر گام مری منزلِ مقصد پہ نظر ہے جو صورتِ خورشید تھا دنیائے ادب میں اخبار میں اُس شخص کے مرنے کی خبر ہے یہ نام یہ عزت جو خدا کی ہے…

Read More

احمد حسین مجاہد

جب علی اکبر کو رخصت دی تو کہتے تھے حسین اب پسِ پردہ شبیہِ مصطفیٰ ہو جائے گی

Read More