توقیر عباس ۔۔۔ اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور

اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور یہ تیر ہے وہ جس کی ضرورت ہے کماں اور آیا ہے صفِ سیدِ ابرار میں جب سے اب حر کی ادا اور ہے اندازِ بیاں اور عاشورۂ غم ذہنوں پہ طاری ہے ابھی سے مقصودِ بیاں اور ہے ہوتا ہے عیاں اور معصوم تبسم کہ جواں سینۂ شبٌاں مطلوب ہے اس کے لیے اندازِ بیاں اور اس دہر میں جس شخص نے کی بیعتِ باطل اس سود کے سودے میں سراسر ہے زیاں اور ہر ایک رجز سے سرِ میداں…

Read More

حبیب جالب

جُھکے گا ظُلم کا پرچم ، یقِین آج بھی ہے مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو مگر نِگاہ میں وُہ سر زمین آج بھی ہے صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ یزید چین سے ، مسند نشِین آج بھی ہے

Read More

حسین ابن علی ۔۔۔ قتیل شفائی

حُسین غم کے صحراؤں میں گھنگھور گھٹا سا بھی تھا وہ دلاور، کئی روز کا پیا سا بھی تھا زندگی اُس نے خریدی نہ اصولوں کے عوض کیوں کہ وہ شخص محمدؐ کا نوا سا بھی تھا اپنے زخموں کا ہمیں بخش رہا تھا وہ ثواب اُس کی ہر آہ کا انداز دُعا سا بھی تھا صرف تیروں کی آئی ہوئی بوچھاڑ نہ تھی اُس کو حاصل غمِ زہرہ کا دلا سا بھی تھا جب گیا بن کے سوالی وہ حضورِ یزداں سرِ اقدس لئے ہاتھ میں کاسہ بھی تھا…

Read More

سلام ۔۔۔ واجد امیر

سلام ہماری آنکھ میں ٹھہری تھی جھیل پانی کی سو ہم نے خوب لگائی سبیل پانی کی اُسے بھی چھید دیا بارشوں نے تیروں کی بَس ایک مشک تھی وہ بھی قلیل پانی کی سوال غیرتِ تشنہ لبی کا تھا ،ورنہ زمین تھی نہیں اِتنی بخیل پانی کی گِلا کسی کا کِسی اور سے نہیں بنتا ہَوا تو آئی تھی بَن کے وکیل پانی کی کِسی کے جبر  نے رستہ دیا نہ پانی کو کسی کے صبر  نے مانی دلیل پانی کی بُہت رُلایا ہے پانی نے خلق کو لیکن…

Read More