نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ علی اصغر عباس

عروجِ بندگی کا یہ صلا تھا کہ خود معبود اپنے گھر ملا تھا بنایا عرش پر مہمان اُن کو مقامِ عبد یوں ظاہر کیا تھا بٹھایا نوریوں میں اک بشر کو وہ پیکر نور سے بھی کچھ سِوا تھا شبِ اسریٰ نے یہ اسرار پایا نبی ؐ کا جسمِ اطہر معجزہ تھا ازل سے پیش تر بعدِ ابد تک کوئی کب دیکھنے والا دِکھا تھا گئے وقتوں کا وہ راوی مصدق کہ استقبال کا بھی پیش پا تھا مکمل، کامل و اکمل وہ انساں خدا کے فخر کا اظہاریہ تھا…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم …. اکرم کنجاہی

نظر ہی آدمی کی جب نہ حالِ زار تک پہنچےجو آنسو قیمتی ہے وہ مری سرکار تک پہنچےبھری دنیا میں خیمہ زن خزائیں دیکھ کر مولاعنادل سب مدینے کے گُل و گُلزار تک پہنچےکوئی میں آہ کھینچوں درد سے لب ریز ہو شاہا!ترے پیارے مدینے کے در و دیوار تک پہنچےبلالیؓ عشق ہے میرا نہیں تاثیر سے خالیاذاں میری سحر والی اُفُق کے پار تک پہنچےزمین و آسماں تک جو حسین و خوب صورت ہےجہانِ آب و گِل میں کب ترے شہکار تک پہنچےکوئی بھی راز تیرا دو جہاں میں…

Read More

آمنہؓ کے گھر عرب کا چاند پیدا ہوگیا ۔۔۔ ریاض ندیم نیازی

آمنہؓ کے گھر عرب کا چاند پیدا ہوگیا ظلمتیں گم ہوگئیں جگ میں اُجالا ہوگیا گِر پڑی تلوار دشمن کی تو آقاؐ رُک گئے یہ عمل دیکھا تو دشمن خود ہی اپنا ہوگیا آپؐ کے اخلاق کے ، دشمن بھی قائل ہوگئے رفتہ رفتہ اُنؐ کا کُل عالم میں چرچا ہوگیا نعت کو اَپنا لیا جس نے بہ اندازِ کمال مُعتبر آواز ، محکم اُس کا لہجہ ہوگیا ہوگئیں پھر دل کی ساری ہی دُعائیں مستجاب شامل اُنؐ کا جب ، دُعاؤں میں وسیلہ ہوگیا آپؐ ہی کے ساتھ ساتھ…

Read More

نعت ۔۔۔ ریاض مجید

خیال و خواب میں بارش ہے نِت اجالوں کی سکوں کی زندگی ہے ہم مدینہ حالوں کی خبر کسی کو کہاں؟ جو خوشی ہے بخت اُن کا حیات خلد کی صورت ہے‘ نعت والوں کی مدینے آیا ہوں جب سے‘ مسلسل آمد ہے ثنائی جذبوں کی اور نعتیہ خیالوں کی عطا جو ہوتے ہیں اُس دَر سے گاہ گاہ ہمیں عجب ہیں لذتیں اُن نُور کے نوالوں کی ہوئے نصیب ہمیں بھی حرم کے کچھ دن رات یہی عطا ہے بہت‘ جانے والے سالوں کی فرشتے عرش کے بھی مانگتے…

Read More

نعتؐ ۔۔۔ نسیمِ سحر

جو اُس مدینۂ جنّت نشاں کو دیکھ لیا تو گویا حاصلِ کون و مکاں کو دیکھ لیا وہ بام و در تھے عجب نور میں نہائے ہوئے ! کہ جیسے سلسلۂ کہکشاں کو دیکھ لیا اب اَور کیا مُجھے کچھ دیکھنے کی خواہش ہو؟ دیارِ نُور کو ، شہرِاماں کو دیکھ لیا کچھ اَور بڑھ گیا احساسِ تنگیِ داماں جو آپؐ کے کرمِ بے کراں کو دیکھ لیا نہ کر سکا مجھے خائف کبھی کوئی سورج کہ مَیں نے ان کے خنک سائباں کو دیکھ لیا مدینہ دیکھ کے لگتا…

Read More

عقیدت ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

ڈوبے سفینے پار لگائے رسولؐ نے بگڑے تھے جو بھی کام بنائے رسولؐ نے جو کچھ نہ تھے،وہ آپؐ کے در پر غنی ہوئے یہ معجزے دکھائے عطائے رسولؐ نے جو ناتواں تھے،کوئی انہیں پوچھتا نہ تھا ہمت بندھائی ان کی ثنائے رسولؐ نے بے رہروی کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی رستہ دکھایا سیدھا دعائے رسولؐ نے صحت کی دولتوں سے نوازے گئے علیل فیضان کر دیا ہے ردائے رسولؐ نے جو مضمحل تھے،عضو معطل تھے ،ہر طرح ڈھارس بندھائی ان کی شفائے رسولؐ نے کسب معاش کوئی ہو…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ محمد یٰسین قمر

اک حلقۂ الطاف میں،دامانِ کرم میں صد شکر کہ ہر آن ہوں مدحت کے حرم میں صد شکر کہ وہ چشمِ کرم میری طرف ہے صد شکر کہ ہرآن ہوں اک ناز و نعم میں یاد آئی ہے سرکارِؐ دو عالم کی وہ بستی یانورکی رم جھم ہے مرے دیدئہ نم میں بیتاب دلی پائے سکینت کے خزانے جس آن بھی یاد آئیں نبیؐ عرصۂ غم میں یوںمدح و ثنائے شہِؐ ابرار ہے جیسے اک گوہرِ نایاب ہو انوار کے یم میں ممکن ہی نہیں آپؐ سا آفاق میں کوئی…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اکرم ناصر

ہم خدا کو ہی خدا کہتے ہیں آپ کو اس کی عطا کہتے ہیں ہے وہی آپ کا جھوٹا پانی سب جسے آبِ بقا کہتے ہیں ان کی چوکھٹ کو جو چھو کر آئے ہم اسے باد صبا کہتے ہیں زہر آلود ہوا کرتی تھی شہر کی آب و ہوا کہتے ہیں لوگ کہہ دیتے ہیں خوشبو اور ہم تیرے کوچے کی ہوا کہتے ہیں کوئی لوٹا نہیں در سے خالی میں نہیں سارے گدا کہتے ہیں آپ ہی تو ہیں مجسم قرآں جو یہ کہتے ہیں بجا کہتے ہیں…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

خود سکھائے ادب ثنائے رسولؐ لکھنے لگتا ہوں جب ثنائے رسولؐ اُنؐ کی چشم کرم سے ممکن ہے خود سے ہوتی ہے کب ثنائے رسولؐ دن کی ٹھنڈک درود کا نغمہ جگمگاتی ہے شب ثنائے رسولؐ آنکھ ہوتی ہے نم جو پچھلے پہر ہونے لگتی ہے تب ثنائے رسولؐ جب سے کھولی شعور نے آنکھیں تب سے کرتے ہیں لب ثنائے رسولؐ کیسے خوددار ہو کے جیتے ہیں یہ سکھاتی ہے ڈھب ثنائے رسولؐ راضی کرتے ہیں اپنے مولا کو آؤ کرتے ہیں سب ثنائے رسولؐ میرے لفظ و خیال…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عباس عدیم قریشی

نگاہ کن کہ فضائے دروں کبیدہ ہے کمال لطف حضور آپ کا شنیدہ ہے حضور ظرف بھی مل جائے بھیک کے شایاں حضور دامن اوقات ما دریدہ ہے ہوا لذائذ عالم سے وہ تو مستغنی حضور آپ کے غم کا جو دل چنیدہ ہے کہاں اٹھاتے ہیں سر ، اہل سر جو ہیں ان کے غرور عشق گدایان در خمیدہ ہے زباں سے کہنا ضروری نہیں عدیم یہاں ہر ایک اشک مرے کیف کا جریدہ ہے

Read More