بیدل حیدری

بھوک پیچھے پڑ گئی ہے ہاتھ دھو کر اور بھی پیٹ سے باندھو مرے دو چار پتھر اور بھی

Read More

آصفہ زمانی

تری یادوں نے تڑپایا بہت ہے بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے

Read More

ناصر شہزاد

خود مٹ گیا مٹاتا ہوا سطوتِ حسین تاریخ مات دے گئی ابن زیاد کو

Read More

قیصرالجعفری

تری  گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا  نہ جانا ہوا

Read More

کیفی اعظمی

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

Read More

احمد فراز

عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہےیوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے

Read More

شیخ تراب علی قلندر

شہر میں اپنے یہ لیلیٰ نے منادی کر دی کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو

Read More

سعادت یار خان رنگین

بت بنے ہیں یوں تو ہم باتیں بناتے ہیں ہزار بات لیکن وصل کی اصلاً بتا سکتے نہیں

Read More

ساحر لدھیانوی

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

Read More

حفیظ جونپوری

نہ گھٹتی شانِ معشوقی جو آ جاتے عیادت کو برے وقتوں میں اچھے لوگ اکثر کام آتے ہیں

Read More