خاور اعجاز ۔۔۔ عقیدت (ماہنامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)

کبھی یہ معجزۂ ماہ و سال ہو جائے عظیم رفتہ نگہبانِ حال ہو جائے وہ روشنی ہے مِرے فکر و فن کے خیموں میں جہاں بھی اُبھرے وہاں بے مثال ہو جائے ہمیں نصیب ہو تطہیرِ فکر کی ساعت ہوس کی قید سے جذبہ بحال ہو جائے شجر کا ہاتھ نہ چھوٹے اگرچہ کانٹوں سے لہو لہان بھی شاخِ مآل ہو جائے حسینؓ آپ سے نسبت ہے جس روایت کو خدا کرے اُسے حاصل کمال ہو جائے

Read More

عقیل رحمانی ۔۔۔ اِس عہدِ کربلا کی نشانی خرید لو (ماہنامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)

اِس عہدِ کربلا کی نشانی خرید لو بِکتا لہو کے بھائو ہے پانی خرید لو دوڑیں گی مَے کے گھونٹ سے رَگ رَگ میں بجلیاں ہے بوتلوں میں بند جوانی خرید لو لینا ہے جو بھی لیجیے ، بھاؤ نہ پوچھیے ہر آن بڑھ رہی ہے گرانی ، خرید لو سورج نے ڈوبتے ہوئے یہ کان میں کہا تُم بھی تو کوئی شام سہانی خرید لو گردہ بِکاؤ ، آنکھ کی پُتلی بِکاؤ ہے چاہو تو میرے خوں کی روانی خرید لو بکنے لگے غلام بھی روٹی کے نام پر…

Read More

اعجاز روشن ۔۔۔ کہاں سے آئے گا بانٹے جو غم ہمارے بھی (ماہنامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)

کہاں سے آئے گا بانٹے جو غم ہمارے بھی بھنور کی زد میں ہیں دریا بھی اور کنارے بھی ضرورتوں سے نکل کر نہ دیکھ پائیں گے زمیں پہ کوئی ستارے اگر اتارے بھی بغیر بھیگے سمندر سے کوئی کب نکلا کسے نصیب محبت ، بنا خسارے بھی وہ جس کی بات بھی سر سے گزر ہی جاتی ہے وہ چاہتا ہے کہ سمجھیں سبھی اشارے بھی یہ شاعری ، یہ مرے خواب اور خیال ترا دوام دے گئے یہ عارضی سہارے بھی میں کیسے ڈال دوں دریا میں اپنی…

Read More

ہمایوں پرویز شاہد ۔۔۔ عکس ٹُوٹے ہوئے دکھاتے ہیں (ماہ نامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)

عکس ٹُوٹے ہوئے دکھاتے ہیں آئنے ہم پہ ظُلم ڈھاتے ہیں گھاس اُگتی نہیں جہاں یارو ہم شگُوفے وہاں کھلاتے ہیں کُھلنے لگتی ہے زندگی جن پہ موت وادی میں لوٹ جاتے ہیں ہر نظارہ حسین ہوتا ہے مئے جب آنکھوں سے وہ پلاتے ہیں وہ بدلتے ہیں وقت کا لکھا جو دیے سے دِیا جلاتے ہیں آشنا ہیں جو غم کی لذّت سے کب غموں سے وہ تلملاتے ہیں جن کو عزّت اَنا کی پیاری ہے وہ سمندر سے پیاس لاتے ہیں وہ حسینی ہیں باخُدا شاہد راہِ حق…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ نسیم سحر (ماہنامہ بیاض اکتوبر 2023)

جو تیرا دھیان آیا، ہاتھ باندھے زمیں پر سَر جھُکایا، ہاتھ باندھے جونہی تُو نے بلایا، ہاتھ باندھے ترے در پر میں آیا ہاتھ باندھے ! مجھے محشر میں تُو رُسوا نہ کرنا میں حاضر ہوں خدایا، ہاتھ باندھے ! مرے ہاتھوں میں تھا اِک جام، لیکن حرم کا دھیان آیا، ہاتھ باندھے مَیں کیسی گُمرہی میں مبتلا تھا! جو پلٹی میری کایا، ہاتھ باندھے ہوئی جب حاضری مکّے میں میری تو اپنا بُت گرایا، ہاتھ باندھے مرے آقاؐ نے جب رستہ دِکھایا تو پھر وعدہ نبھایا، ہاتھ باندھے مدینے…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ تری کشش کے کلیشے کو توڑنا پڑ جائے (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )

تری کشش کے کلیشے کو توڑنا پڑ جائے زمیں پہ تازہ روایت کی ابتدا پڑ جائے یہ لوگ دل سے نکلتے رہے تو ممکن ہے خلا کا نام کسی روز انخلا پڑ جائے زمیں پہ آدمی نایاب ہو نہ جائے کہیں چراغ ہاتھ میں لے کر نہ گھومنا پڑ جائے وہ کھو نہ جائے زمان و مکاں کی گلیوں میں فلک کی چھت سے نہ اس کو پکارنا پڑ جائے غبارِ غیب کو دیکھوں گا بند آنکھوں سے کھلی رکھوں گا تو آ نکھوں میں جانے کیا پڑ جائے رکھا…

Read More

علمدار حسین ۔۔۔ وہ جو دریا تھا وہ دریا تھا نہیں (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )

وہ جو دریا تھا وہ دریا تھا نہیں خیر اچھا ہے میں پیاسا تھا نہیں اس میں جو ڈوبا وہ پھر ابھرا کہاں ظاہراً پانی جو گہرا تھا نہیں خیرگی کا اک بہانہ تھا فقط جو اجالا تھا ، اجالا تھا نہیں شہر میں ہر سمت پھیلے تھے سراب کوئی جیسا تھا ، وہ ویسا تھا نہیں وہ جو میرا تھا نہیں ، میرا تھا وہ وہ جو میرا تھا ، وہ میرا تھا نہیں دوستوں کو بھی کوئی پرخاش تھی پہلے ان کا یہ رویہ تھا نہیں یاد آئے…

Read More

زاہد خان ۔۔۔۔ شام ڈھلے جب رختِ سفر کو ہم نے اونٹ پہ بار کیا (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )

شام ڈھلے جب رختِ سفر کو ہم نے اونٹ پہ بار کیا اک تارے نے ریگستان میں راستے کو ہموار کیا نیر بہاتی سَسّی نے جب پُنَل کو آوازیں دیں ڈار سے بچھڑی کونج نے تب آواز کو اُس دم پار کیا جیون کاٹتے آ گئے ہیں ہم بچپن سے اپنے بڑھاپے تک وقت کی دو دھاری تلوار نے دیکھو کیسا وار کیا کام کی بابت پوچھے ہو تو کیا تم کو بتلائیں ہم قاصر* کی دھرتی والے ہیں ہم نے تو بس پیار کیا ہم دریا کی مستی لے…

Read More

رخسانہ سمن ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )

حالتِ رنج میں کیا دھیان تمہارا کرتے ہم اگر سانس بھی لیتے تو خسارا کرتے جن کے سانسوں کی روانی ہی جڑی تھی تم سے کس طرح یاد سے تیری وہ کنارہ کرتے یوں اندھیروں کے تصرف میں نہ آتے ہم لوگ تم اگر خاک کے ذروں کو ستارہ کرتے چل پڑا ہوتا کسی آنکھ میں ٹھہرا دریا آپ منظر کو اگر ایک اشارہ کرتے تیری رسوائی کا گر خوف نہ ہوتا ہم کو ہم ترا نام ہی ہر وقت پکارا کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرا خیال کسی رنگ و رس میں…

Read More