جدید اردو نظم مختصر تعارف شعر انسان کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کے تجربات کا مرقع ہوتا ہے،ان ہی تجربات اور افکار کی روشنی میں جب کوئی تخلیق وجود میں آتی ہے تو وہ شاعری کا روپ اختیار کرتی ہے ۔ذہنی و فکری اور معاشرتی زندگی کا تنوع زبان و ادب میں تنوع اور رنگا رنگی کی وجہ بھی، بائیں ہمہ شعر کے اندر بھی رفتار زمانہ اور انقلاب احوال کے ساتھ تنوع اور رنگا رنگی نیز جدت طرازی دیکھنے کو ملی،گویا شعرکو بھی ارتقائی ادوار سے گزرنا پڑاہے۔اس ارتقائی…
Read MoreCategory: منتخب مضامين
گوپی چند نارنگ ۔۔۔ جدید نظم کی شعریات اور کہانی کا تفاعل
جدید نظم کی شعریات اور کہانی کا تفاعل ادب میں نثر اور شاعری کی تفریق پرانی چلی آتی ہے۔ اس کو نثر اور نظم کا فرق بھی کہہ دیتے ہیں۔ نظم میں جدید نظم کا تصور نسبتاً نیا ہے، اردو میں یہ غیرملکی اثرات سے آیا، یعنی جدید نظم ہماری چیز نہیں ہے ہرچندکہ اردو میں رچنے بسنے کے نامیاتی عمل میں نظم کی ساخت بلکہ ساختوں میں جزوی تبدیلیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔ بہرحال ہماری اصل اصناف غزل، قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ ہیں، چاہیں تو رباعی اور قطعے کا…
Read Moreڈاکٹر سعدیہ طاہر۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور جدید نظم کی پہچان
Abstract The main focus of this essay is the contribution of Dr. Wazir Agha in critical appreciation of various poets who have given a distinct shape to new peom. He traces the evolution of the new poem from Muhammad Hussain Azad and Allama Iqbal to Akhtar-ul-Emaan and Majeed Amjad, from early nineteenth century to the late twentieth century. This is an everlasting contribution of Dr. Wazir Agha to Modern Urdu poetry. ڈاکٹروزیر آغا نے اُردو ادب میں جدید نظم کی پذیرائی ، پہچان اور تحسین کی فضا پیدا کرنے میں…
Read Moreشاعر علی شاعر ۔۔۔ اظہارِ ذات کی شاعرہ :صائمہ اسحاق
اظہارِ ذات کی شاعرہ…صائمہؔ اسحاق یہ حقیقت ہے کہ ہر شاعر اپنے مطالعے کی بنیاد پر اپنے شعری سفرکو آگے بڑھاتا ہے۔ اِس سفر میں جو اُسے تلخ و شیریں تجربات اور عمیق مشاہدات ہوتے ہیں وہ اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔ یہ شاعر پر منحصر ہے کہ وہ کس فن کاری، چابک دستی اور ہنرمندی سے کارِ شاعری کو انجام دیتا ہے۔ صائمہ اسحاق ایک وسیع المطالعہ شخصیت ہیں۔ ہر شاعر اپنے مستند پیش روئوں سے کسی نہ کسی سطح ُپر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسلاف…
Read Moreرضوان احمد ۔۔۔ اردو شاعری کا شہابِ ثاقب: اطہر نفیس
کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قبصہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22فروری سنہ 1933کو ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او وہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہوئے او ترقی کر کے چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پہنچے۔ اطہر نفیس نے ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے ادب میں اپنا مقام بنایا۔ اطہر نفیس کو کم وقت ملا اور صرف 47برس…
Read Moreخالد حسن ۔۔۔۔ فقیر منش مصور صادقین، بیس سال بعد (26 ستمبر 2007)
صادقین کی موت کو 20 سال ہوگئے۔ وہ اگر زندہ ہوتے تو اس وقت 77 برس کے ہوتے۔ جب 1987ء میں ان کا انتقال ہوا تو لوگوں کو ان کی موت سے زیادہ اس بات پر تعجب ہوا تھا کہ آخر وہ اتنا عرصہ زندہ کیسے رہ لیے۔انھوں نے اپنی زندگی کو بھی اسی شدت، اسی جوش سے گزارا تھا جس شدت اور جوش و جذبے سے وہ مصوری اور شاعری کیا کرتے تھے۔ صادقین نے اپنی شمعِ زندگی کو دونوں سروں سے جلایا تھا، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے…
Read Moreاحمد سہیل ۔۔۔ ن م راشد: اردو شاعری کو نیا لہجہ دینے والا باغی اور مزاحمتی شاعر
ن م راشد: اردو شاعری کو نیا لہجہ دینے والا باغی اور مزاحمتی شاعر ن م راشد یکم اگست 1910 کو گوجرانوالہ کے قصبے علی پور چٹھا/ کوٹ بگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجا نذر محمد تھا۔ اردو ادب کی جدید تاریخ ن م راشد کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے۔ وہ جدید شاعری میں آزاد نظم کے بانی، علامت نگاری کی تحریک اور نفی دانش کے اولین مشعل بردار ہیں۔اسکول کے زمانے ہی سے راشد نے شعر گوئی شروع کر دی تھی اور بمشکل سات…
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ فانی: شخصیت اور شاعری
شوکت علی خاں فانی بدایونی کی تاریخ پیدائش۱۳؍ ستمبر ۱۸۷۹ء ہے۔ ان کے انتقال کو اڑتالیس سال ہونے کو آئے۔ (تاریخ وفات ۲۲؍اگست ۱۹۴۱ء) اپنے دور میں فانی خاصے مقبول تھے۔ ان کے انتقال کے بعد فانی کے خلاف بھی بہت کچھ کہا گیا۔ آج فانی کو کچھ لوگ بھولتے جارہے ہیں۔ بہر حال فانی کی شاعری کے ازسرِنو مطالعے، ان کے ادبی کارنامے کی پرکھ، ان کی معنویت کے تعین کی ضرورت مسلم ہے۔ یہ مقالہ اسی سلسلے کی ایک حقیر کوشش ہے۔ ظاہر ہے کہ فانی کو سمجھنے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ رضیہ سجاد ظہیر
رضیہ سجاد ظہیر رضیہ دلشاد ترقی پسند تحریک کے بانی سجاد ظہیر سے شادی (۱۹۳۸ء) کے بعد رضیہ سجاد ظہیر کے نام سے لکھنے لگیں۔انہوں نے تراجم بھی کیے،بچوں کے لیے لکھا۔ افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی اُن کا ایک مقام ہے۔ اُن کو کردار نگاری و سراپا نگاری پر بڑی دسترس تھی۔وہ کردار نگاری ایسی کرتی تھیں کہ اُن کا افسانہ کرداری افسانہ بن جاتا تھا۔ وہ عام طور افسانوں کے لیے کردار اپنے گردو پیش اور ماحول سے منتخب کرتی تھیں اور اکثر افسانے واحد متکلم میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ خالدہ حسین
خالدہ حسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالدہ حسین ۱۸؍ جولائی ۱۹۳۸ ء کے روز لاہور میں پیدا ہوئیں۔پہلا افسانہ ’’نغموں کی طنابیں ٹوٹ گئیں ۱۹۵۶ء میں ’’قندیل‘‘ میں شائع ہوا۔ڈاکٹر اقبال حسین سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے چار سال بعد کراچی منتقل ہو گئیں اور درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔اُ ن کے افسانے اکثر و بیشتر ادبِ لطیف، ماہِ نو، اوراق، سویرا، نیا دور، دریافت، علامت اور آج میں شائع ہوتے رہے۔اُن کے افسانوں کے مجموعے پہچان، دروازہ، مصروف عورت اور ہیں خواب میں ہنوز کے نام سے شائع ہوئے۔…
Read More