آلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ آتش کے بارے میں

اردو میں تنقید حالی سے شروع ہوئی۔ حالی نے جب ہوش سنبھالا تو فکر و فن پر لکھنؤ کا خاصا اثر تھا۔ یہاں تک کہ غالب جیسا صاحبِ نظر ناسخ کے رنگ کی طرف کبھی کبھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ لیتا تھا۔ حالی نے مجموعۂ نظمِ حال کے دیباچے میں، مسدس کے دیباچے میں اور پھر مقدمے میں قدیم رنگِ سخن سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مقدمے میں اردو غزل کی بیشتر خامیوں کا ذمے دار متاخرین خصوصاً لکھنؤ کے شعراء کو ٹھہرایا ہے۔ یہ صرف…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ فہمیدہ اختر

فہمیدہ اختر تقسیمِ ہند سے پہلے موجودہ خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا افسانہ نگار پیدا نہیں ہوا۔ ایک نام نصیر الدین نصیر کا سامنے آتا ہے جو ۱۹۳۰ ء تک افسانے لکھتے رہے۔اُن کے افسانے زیادہ تر اصلاحی رنگ میں اور وعظ و نصیحت پر مبنی تھے۔اُن کے افسانے ادبی جرائد میں تو شائع ہوتے رہے مگر کوئی مجموعہ طبع نہیں ہوا۔ فہمیدہ اختر خیبر پختونخوا کی اُن نمایاں افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جن کی کہانیوں کے پلاٹ آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے محنت کش اور غریب مگر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ام عمارہ

ام عمارہ امِ عمارہ خیبر پختونخوا کی ایک با شعور افسانہ نگار ہیں۔ہر مسئلے کو ایک غیور پاکستانی کی حیثیت سے دیکھتی، سوچتی اور پرکھتی ہیں۔۱۹۹۰ء میں جب اُن کے افسانوی مجموعہ ’’درد روشن ہے‘‘ اور آگہی کے ویرانے‘‘ شائع ہوئے تو نہ صرف فکشن نگاروں نے بل کہ ادب کے قاری نے بھی اُن کو سراہا۔ اُنہوں نے بنگلادیش سے ہجرت کاکرب سہا تھا،وہ وہاں سے یہاں خیبر پختونخوا میں آباد ہوئیں۔ سقوطِ ڈھاکہ ہمارے قومی تاریخ کا الم ناک سانحہ ہے جو ہر محبِ وطن کے مغموم کر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ نسیم انجم

نسیم انجم نسیم انجم کراچی میں مقیم ہیں۔یہیں۱۹۵۶ء میںپیدا ہوئیں۔ ممتاز فکشن نگار، صحافی،کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں۔ درس و تدریس سے بھی وابستہ رہی ہیں۔گزشتہ ۲۰؍ برسوں سے روز نامہ ایکسپریس کے لیے کالم لکھ رہی ہیں۔ماہنامہ ’’چاند گاڑی‘‘ کی مدیرہ اور’’اسپورٹس انٹرنیشنل‘‘ کی نائب مدیرہ رہی ہیں۔ریڈیو پاکستان کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔اُن کے افسانوی مجموعے دھوپ چھاؤں، گلاب فن اور دوسرے افسانے، اور آج کا انسان کے نام سے شائع ہوئے۔ناول کائنات، آہٹ، پتوار، نرک اور سر بازار رقصاں کے نام سے شائع ہوئے۔ آپ کا…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شاہدہ لطیف

شاہدہ لطیف شاہدہ لطیف کا تخلیقی کینوس بہت وسیع ہے۔ وہ شاعرہ، ادیبہ،فکشن نگار، صحافی، سفر نامہ نگار اورمورخ ہیں۔وہ تاریخِ ادب کی اُن چند فکشن نگار خواتین مثلاً عصمت چغتائی، جمیلہ ہاشمی اور رضیہ فصیح احمد میں سے ایک ہیں جنہوں نے تاریخی ناول لکھے ہیں۔مذکورہ خواتین کی فکشن نگار کی حیثیت سے گراں قدر خدمات ہیں اور اُن میں سے ہر کسی کا اپنا اسلوب بیان ہے۔اِن خواتین کی تاریخی تخلیقات کے مطالعے کے بعد جب گزشتہ دنوں مجھے شاہدہ لطیف کے تاریخی ناول ’’سلطان محمد فاتح‘‘ کا…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شہناز پروین

شہناز پروین شہناز پروین ہمارے عہد کی ’’خالص افسانہ نگار‘‘ ہیں۔یہ خالص کا لفظ اُن کی تخلیقی ہُنر مندی کو واضح کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے جتنے بھی افسانے لکھے ہیں، وہ ایک صاحبِ اسلوب مصنفہ کے رنگ میں لکھے ہیں۔ اُنہوں نے ادبی منظر نامے میں ہلچل پیدا کرنے یا اپنے قاری پر اپنی ڈکشن یا علمیت کا رعب قائم کرنے کے لیے کہیں زیادہ فلسفیانہ مکالمے لکھے ہیں اور نہ ہی افسانوں کووعظ و نصیحت کے مضامین بننے دیا ہے۔ مزید براں کہیں ذہنی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ سیمیں کرن

سیمیں کرن گلبرگ،فیصل آباد میں مقیم سیمیں کرن حالیہ دور کی فکشن نگار ہیں۔ماضی قریب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر فکشن کے منظر نامے میں انہوں نے بہت سرعت اور محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ادبی جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف اُن کوسنجیدہ قارئین کی ایک بڑی تعداد میسر ہے بلکہ صاحبانِ نقد و نظر پر بھی انہوں نے اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ اُن کا ادبی تخلیقی اثاثہ معیاراور…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ جمیلہ ہاشمی

جمیلہ ہاشمی جمیلہ ہاشمی ۱۷؍ جنوری ۱۹۲۹ء کے روز امرتسر (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئیں۔تقسیمِ ہند کے بعدساہیوال میں آ کر آباد ہوئیں۔اُن کے افسانوی مجموعے ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ میں تین افسانے زہر رنگ، لہو رنگ اور شبِ تار رنگ شامل ہیں۔ اپنا پنا جہنم کو ناولٹ بھی کہا جاتاہے۔ اِس کے علاوہ آپ بیتی جگ بیتی اور رنگ بھوم شامل ہیں۔اُن کے افسانوں کی چند اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:سماجی شعور میں وسعت،شہروں اور دیہاتوں میں پرورش پانے والے کرداروں کی ذہنی کیفیات، مسائل اور الجھنوں کا بیان،جنسی موضوعات…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ نقادوں سے دس سوال

نقادوں سے دس سوال (۱) تنقیدی نگاری سے آپ کامقصد ادب کی تاریخ کو مرتب کرنا ہے یا ہم عصر اَدَب پر اثرانداز ہونا؟ (۲) کیا آپ کی دانست میں آپ کی تنقید سے ہم عصر ادب کو کوئی فائدہ پہنچا ہے؟ اور کیا ہم عصر لکھنے والوں نے کسی طور پر آپ کی تنقیدی فکر سے اثر قبول کیا ہے؟ (۳) آپ گزشتہ ادب کے بارے میں کیوں لکھتے ہیں؟ (۴) ہم عصروں پر لکھنے میں کبھی جھجک محسوس ہوئی ہے؟ ہوئی ہے تو کیوں؟ (۵) اگر تقسیم کے…

Read More

فرہاد احمد فگار ۔۔۔ اردو نظم :ایک مضبوط روایت

اردو نظم نگاری کی باقاعدہ ابتدا تو سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی سے ہوگئی تھی لیکن یہ صنف انجمن پنجاب کے قیام کے بعد زیادہ ثروت مند ہوئی۔ بیس ویں صدی کے آغاز اور سرسید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ سے قبل نظیر ہی ایک ایسا نام تھا جس نے اردو نظم کی صورت میں اردو ادب میں اضافہ کیا۔ وہ ایک ایسا شاعر تھا جس نے اپنی نظم کے ذریعے وہ الفاظ و تراکیب بھی اردو ادب کے دامن میں بھر دیں جن سے پہلے اردو شاعری…

Read More