پروین شاکر ۔۔۔ تاج محل

سنگِ مرمر کی خنک بانہوں میں حسنِ خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے! ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے جس کی لو عمر گئے اک دلِ شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی! اسی مہتاب کی اک نرم کرن سانچۂ سنگ میں ڈھل پائی تو عشق رنگِ ابدیت سے سرافراز ہوا کیا عجب نیند ہے…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

اپنے پندار کی کرچیاں چن سکوں گی شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!

Read More