ثمینہ سید ۔۔۔ نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں

نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں بہار رت میں شجر پیرہن بدلتے ہیں ڈرا نہ پائے گا یہ ہجر تیرگی سے ہمیں ہماری پلکوں پہ شب بھر چراغ جلتے ہیں رہِ سفر میں کوئی ہم سفر نہیں، لیکن میں مطمئن ہُوں کہ چھا لے تو ساتھ چلتے ہیں مقام ملتا نہیں ہے صعوبتوں کے بغیر مجھے خبر ہے کئی لوگ ہاتھ ملتے ہیں ہمیشہ فکر ستاتی ہے دشمنوں کو اب کہاں پہ گرتے ہیں اور ہم کہاں سنبھلتے ہیں مگر ہمیشہ انہیں مسکرا کے ملتی ہُوں مجھے خبر ہے…

Read More

عقیدت ۔۔۔ آصف ثاقب

میری آنکھوں میں منّور خانہ کعبہ اور اشکوں کا ہے محور خانہ کعبہ اس کے ارماں ہی مرے دل میں بسے ہیں یاد رکھتے ہیں وہ اکثر خانہ کعبہ اس سے ایماں کی خبر سب کے لیے ہے اس کو جانو ہے مبشر خانہ کعبہ دیکھنے کی یہ تمنا جو مری ہے مجھ سا پائے گا قلندر خانہ کعبہ خانہ کعبہ ہے سہارا ، میرا ثاقب ہر قدم پر ہے مظفر خانہ کعبہ

Read More

اکرم سحر فارانی ۔۔۔ دو غزلیں

ہوتا ہے کام یُوں بھی وفا کے نصاب پر آنکھیں کسی کی راہ میں، اُنگلی کتاب پر یہ بھی تو ایک رنگ ہے عہدِ شباب کا کرتی ہیں رقص خواہشیں دل کے رباب پر فیشن میں ڈھل گئی ہے نمائش وجود کی اُٹھنے لگی ہیں اُنگلیاں سادہ نقاب پر مانا وہ بے وفا ہے مگر اِس کے باوجود کرتے ہیں لوگ رشک مرے انتخاب پر سینچے گا کس طرح وہ محبت کا گُلستاں جس نے وفا کا ڈیم بنایا سراب پر ایسے میں خامشی ہی مناسب جواب ہے جب سینکڑوں…

Read More

افروز رضوی ۔۔۔ تیری میری اُڑان دیکھے گی

تیری میری اُڑان دیکھے گی جب زمیں آسمان دیکھے گی تیری موجِ تباہ کن میری قوتِ بادبان دیکھے گی آ نکھ اُٹھا کر زمین بھی اک دن بارشِ آسمان دیکھے گی تیری راہِ طلب میں بن کے غبار خاک اپنی اُڑان دیکھے گی وحشتِ دل فراق میں تیرے کمرئہ امتحان دیکھے گی جب اٹھے گی گھٹا دل و جاں سے دھوپ پھر سائبان دیکھے گی

Read More

شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم

نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں سفرمیلوں یہ کرتی ہے کبھی گلزار بن جائے کبھی یہ نوح کی کشتی کبھی گمنام ہو جائے کبھی ہر رنگ کو پکڑے محبت موم جیسی ہے یہ حدت سے پگھلتی ہے کبھی محفل میں سجتی ہے کبھی صحرا بھٹکتی ہے کبھی بس ایک خواہش میں یہ خود پہ جبر کرتی ہے محبت سات رنگوں کی کوئی تشہیر ہو جیسے محبت راگ ہو جیسے محبت وصل کی خواہش محبت دل نشیں تعبیر جیسی ہے محبت…

Read More

عاصم بخاری ۔۔۔ جتنا بھی پیار ، فیس بُک پر ہی

جتنا بھی پیار ، فیس بُک پر ہی یار دل دار ، فیس بُک پر ہی قول اقرار ، فیس بُک پر ہی سارے اظہار ، فیس بُک پر ہی سچ تو یہ ہے کہ مرنے والوں کا اب ہے دیدار ، فیس بُک پر ہی ہو محبت کا ، یا کہ نفرت کا اب تو اظہار ، فیس بُک پر ہی ویسے تو ملنا کب نصیبوں میں آنکھیں بھی چار فیس بُک پر ہی پگڑیاں بھی اچھلتی دیکھیں یاں عزتیں تار فیس بُک پر ہی وقت پڑنے پہ وا…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیا

جوش ملیح آبادی کی یہ غزل ایک ایسے عاشقِ دلنواز کا آئینہ ہے جس نے وعدوں پر یقین، صبر پر سوال، اور بےقرار انتظار کو عبادت کی صورت اختیار کیا اور ہر تڑپ کو خالص محبت کا اظہار جانا۔

Read More

حیدر بخاری ۔۔۔ آپ اک بار مرے گاؤں میں گر آجائیں

آپ اک بار مرے گاؤں میں گر آجائیں جتنے ہیں بانجھ شجر سب پہ ثمر آ جائیں تم نے اک بار بلایا ہی نہیں ہے ورنہ ہم تو اک بار بلانے پہ ہی گھر آ جائیں سر ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں ہم اس دن سے تم نے جس دن یہ پکارا تھا کہ سر ! آجائیں پہلا دن جامعہ کا خالی نہ تھی کوئی نشست پھر کسی نے یوں بلایا تھا : ادھر آجائیں

Read More

اکرم جاذب ۔۔۔ یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی

یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی شاید اسے نصیب فراغت نہیں ہوئی مصرع سمجھ کے میں نے اٹھا تو لیا اسے مشکل زمین تھی سو ریاضت نہیں ہوئی مقصود دست ِ یار پہ طعنہ زنی نہیں کیوں ایک زخم پر ہی قناعت نہیں ہوئی ایسا بھی کوئی اجنبی ملنا محال ہے خود سے ملا ہوں اور مجھے وحشت نہیں ہوئی ہنستے رہے ہیں دامن ِ صد چاک پر رفیق محسوس ہی رفو کی ضرورت نہیں ہوئی لائیں کوئی ثبوت ِ اطاعت ہی سامنے کہتے جو ہو جہاں سے بغاوت…

Read More