فلک پہ ہے نظارا روشنی کا چمک اُٹھا ستارا روشنی کا لہو اپنا رواں اس میں کیا ہے تعلّق ہے ہمارا روشنی کا بڑھایا ہم نے دل کا نور ایسا اُدھر پانی اتارا روشنی کا جھلکتی ہے تو چھپ جاتی ہے پہلے یہ کیسا ہے اشارہ روشنی کا نگاہوں میں اجالا کر رہا ہے بہت اونچا منارہ روشنی کا پڑھوں تو نظم بن جاتا ہے ثاقب ہر آنسو ہے شمارہ روشنی کا
Read Moreمیتھیو محسن ۔۔۔ نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے
نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے خوشی ہی راس نہ غم ساز گار کیا کہیے تمام رات ستاروں نے خون چھڑکا ہے کیا ہے کیسے ترا انتظار کیا کہیے ہر ایک یاد سے زخموں کے پھول کھلتے ہیں تباہ دل کے چمن کی بہار کیا کہیے ہجومِ جلوۂ رنگیں میں کھو گئی ہے نظر بہارِ حسن کا دل کش نکھار کیا کہیے یہ کس مقام پہ چھوڑا ہے زیست نے محسن نہ کوئی غم نہ کوئی غم گسار کیا کہیے
Read Moreمحمد انیس انصاری ۔۔۔ جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے
جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے ہم سیاست کا یہ معیار بدل ڈالیں گے جس نے لُوٹا ہے مرے دیس کی مٹّی کا سہاگ اِس کہانی سے وہ کردار بدل ڈالیں گے تو نے سینچا ہے جسے اپنے لہو سے برسوں یہ تو پل بھر میں وہ گلزار بدل ڈالیں گے میں نہ کہتا تھا کہ یہ لوگ تو سوداگر ہیں ترے اجداد کی اقدار بدل ڈالیں گے سُن اے نیلام گھروں تک ہمیں لانے والے! ہم ترا مصر کا بازار بدل ڈالیں گے ہم نے…
Read Moreخالق آرزو ۔۔۔ عمر بھر ایک شرر یاد آیا
عمر بھر ایک شرر یاد آیا ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا ہر طرف خاک مرے اُڑنے لگی جب بھی وہ دشت وہ سر یاد آیا میں کہاں اس کو بھلا بھول سکا ہاں تکلف سے مگر یاد آیا جب بھی آیا مجھے دنیا کا خیال ایک ممنوعہ شجر یاد آیا سن کے ہوتا ہے تعجب مجھ کو آرزو آپ کو گھر یاد آیا
Read Moreمحمد یوسف ۔۔۔ جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں
جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں زندگی یہ تِری سزا تو نہیں جانے کِس موڑ پر بچھڑ جائے ہم سفر نے ابھی کہا تو نہیں ہم مسافر ہیں ، آخرِ شب کے چل پڑیں ، کب ، کہیں ، پتا تو نہیں کوئی ویران کر گیا ہے شہر لوگ کہتے ہیں کچھ ہوا تو نہیں یہ مِرا گھر ہے یا کوئی صحرا پھول آنگن کوئی کِھلا تو نہیں وہ جو کب کا بچھڑ گیا یوسف شہرِ جاں سے ابھی گیا تو نہیں ۔۔۔۔ شور ایسا مری بستی کی فضا…
Read Moreنبیل احمد نبیل ۔۔۔ دو غزلیں
ایک لمحہ ہے ترے حُسنِ نظر کا جاگنا عشق ہے لیکن مسلسل عمر بھر کا جاگنا زندگی کے چاک پر گردِش کو رکھتا ہے رواں کُوزہ گر کے ہاتھ میں شوقِ ہنر کا جاگنا بنتا جاتا ہے تلاشِ آب و دانہ کا سبب صبح سے پہلے ہر اِک شاخِ شجر کا جاگنا کر گیا مجھ کو نئی سمتوں کی حیرانی میں گم منزلِ گم گشتہ سے عزمِ سفر کا جاگنا پھر کوئی پُرنم اُداسی دے گیا مجھ کو نبیل صفحۂ دل پر کسی رنگِ اثر کا جاگنا ۔۔۔۔۔ زندگی یوں…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے یاد آتی ہے تم میری نگاہوں میں امڈتی چاہتوں کے ایک ہلکے سے اشارے پر قلانچیں بھرتے آتے تھے مری گردن میں اپنی ننھی منی نرم باہیں ڈال کر مجھ سے لپٹ جاتے تھے کیسے والہانہ، کس قدر بے اختیارانہ مری آغوش میں آتے مرے اک اک بُنِ مُو میں سماتے تھے سماعت اْس گھڑی تینوں دلوں کی دھڑکنیں اک ساتھ سنتی تھی سواری کے لیے کس دھونس سے گھوڑا بنا لیتے تھے ابُّو…
Read Moreدلشاد احمد ۔۔۔ دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے
دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے میلے میں آ کے بھی کوئی تنہا لگا مجھے مسکاں منافقت کی مرا دل جلا گئی دشمن کا منہ پہ بولنا اچھا لگا مجھے ہر سانس جیسے وجہِ شکستِ وجود ہے ہر لمحہ ایک گھن کی طرح سا لگا مجھے جیسے ٹریڈ مل پہ ہوں اور چل نہیں رہا ایسا بھی ہو رہا ہے کچھ ، ایسا لگا مجھے آتا گیا قریب تو کھلتا چلا گیا اک شخص جو کہ دُور سے اچھا لگا مجھے دیکھا اُسے جو پیار کا چشمہ اتار کر…
Read Moreمحسن اسرار
اُسے بتاؤ کہ محسنؔ ابھی میں زندہ ہوں رگوں میں خون بھی ہے ہڈیوں پہ ماس بھی ہے
Read Moreراحت اندوری
راحت اندوری کا یہ شعر تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاموش بے بسی اور نظامِ معاش کی بےحس بیکاری کا علامتی و احتجاجی اظہاریہ ہے۔
Read More