شاہد ذکی ۔۔۔ رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا

رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا ابنِ حیدرؑ کا حوالہ بھی ہے حیدرؑ جیسا بہتے دریاؤں نے جھک جھک کے سلامی دی تھی ظرف اس تشنہ دہن کا تھا سمندر جیسا اور کچھ دن مجھے زنجیر زنی کرنے دو زخم باہر نہیں آیا ابھی اندر جیسا یہ ستارے جو مجھے زخم نما لگتے ہیں آسماں لگتا ہے زینبؑ تری چادر جیسا پھر گئی ہی نہیں ویرانیِ باغِ دنیا پھول مہکا نہ دوبارہ کوئی اصغرؑ جیسا ڈھونڈتی پھرتی ہیں اب وقت کی بوڑھی آنکھیں کیا جوانوں میں جواں…

Read More

جون ایلیا ۔۔۔ سلام

زاتِ محمدؐ و علیؑ اصل ھے ایک نام دو میکدۂ وجود میں بادہ ھے ایک جام دو پشتِ رسولِؐ پاک پر جلوہ نما امام دو مرکبِ خوش خرام ایک، راکبِ لالہ ٖفام دو نورِِ جبینِ مصطفیؐ ،ظلمتِ گیسوئے دوتا جلوہ گہِ حرم میں آج، صبح ھے ایک شام دو غارِِ حرائے احمدی ،خمِ غدیری حیدری مقصدِ فیضِ عام ایک ، منظرِ فیضِ عام دو طور و جمالِ کبریا ، دوشِ نبی و مرتضیؑ اھلِ نظر سے پوچھیے ، جلوہ ھے ایک بام دو روئے علیؑ پہ اک نگاہ ، جانِ…

Read More

مجید اختر ۔۔۔ عطا قدرت نے فرمادی بڑی جاگیر، بسم اللہ

عطا قدرت نے فرمادی بڑی جاگیر، بسم اللہ ثنائے اہلبیتؑ و ماتمِ شبیر ؑ ، بسم اللہ گراں پتھر، یہ میری راہ کے مجھ سے نہیں ہٹتے مدد کرنا مری اے دستِ خیبر گیر، بسم اللہ مرے قاری تجھے بخشش ہوا ہے لحنِ داؤدی جگا جادو، سنا پھر آیۂ تطہیر، بسم اللہ عزائے شہ ؑ بھی لکھی، مدحتِ شبیرؑ بھی لکھ دی مقدر میں مرے اے داورِ تقدیر، بسم اللہ پیمبرؑ کی طرح جب اکبرِ مہ رُو چلے رن کو لگا افلاک میں ایک نعرۂ تکبیر، بسم اللہ بشاشت چھین…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔   خاک کی کیمیا

خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے قضیے سے کیا مجھے تو زمیں پر بدلتے ہوئے موسموں سے غرض ہے درختوں کے کٹنے کا غم ہے ہوا گرم ہونے لگی ہے کبھی آگ کے دائرے کھینچتی ہے کبھی ریت کی چادریں تانتی ہے وہ ننھے پرندے جو اپنے لڑکپن میں دیکھے تھے،معدوم ہیں شہر تو پھیلتے جا رہے ہیں مگر سانس لینے کا رقبہ سمٹنے لگا ہے ندّیاں سوکھتی جا رہی ہیں سمندر بپھر نے لگے ہیں کہ وہ صاف پانی…

Read More

صبا اکبر آبادی ۔۔۔ جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے صبح تک ختم ہو ہی جائے گا زندگی رات بھر کا قصہ ہے دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے کوئی تلوار کیا بتائے گی دوش کا اور سر کا قصہ ہے ہوش آ جائے تو سناؤں گا چشمِ دیوانہ گر کا قصہ ہے چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی صرف سمتِ سفر کا قصہ ہے جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا زندگی، عمر بھر کا قصہ ہے…

Read More

فراق گورکھپوری ۔۔۔ وقت غروب آج کرامات ہو گئی

وقت غروب آج کرامات ہو گئی زلفوں کو اس نے کھول دیا، رات ہو گئی کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی اے سوزِ عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلفِ شکن شکن ہستی تمام چشمۂ ظلمات ہو گئی اہل وطن سے دور جدائی میں یار کی صبر آ گیا…

Read More

احمد ادریس

تجھ سے آغاز ہوا حرفِ صداقت کا نصاب تیرے سینے سے چلی جراتِ انکار حسین

Read More

تابش مہدی ۔۔۔ بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا

بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا جوانوں کو جو درسِ بزدلی دیں کبھی ہونٹوں پہ وہ قصے نہ رکھنا اگر پھولوں کی خواہش ہے تو سن لو کسی کی راہ میں کانٹے نہ رکھنا کبھی تم سائلوں سے تنگ آ کر گھروں کے بند دروازے نہ رکھنا پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا نہیں ہے گھر میں مال و زر تو کیا غم وراثت میں مگر قرضے نہ رکھنا رئیسِ شہر کو میں جانتا ہوں کوئی امید…

Read More

جلی امروہی … ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺮﺟﻮﺵ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺮﺟﻮﺵ ﻣﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﭘﺲِ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﻗﺮﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﮑﺘﻮﺏ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﺱ ﺗﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻠﺦ ﺍﺷﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻻﺯﻣﮧ ﻗﻄﻊِ ﻣﺮﺍﺳﻢ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﯾﮧ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﻝ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁ ﮔﺌﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮨﻢ ﺗﻮ ﻣﻮﺯﻭﮞ ﺗﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻟﻔﺖ ﮐﮯ ﻟیے ﺯﺭ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﯽؔ ﮐﺎﻡ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

Read More

جوش ملیح آبادی

کوئی صدمہ ضرور پہنچے گا آج کچھ دل کو شادمانی ہے

Read More