محمد علی ایاز ۔۔۔ مسلسل نامکمل راستوں سے

مسلسل نامکمل راستوں سے کسی نے رب کو ڈھونڈا مشکلوں سے ابھی بھی دل مرا بنجر نہیں ہے ہرا رکھا ہوا ہے خواہشوں سے کسے معلوم کیوں کر دیکھتا ہوں میں ہاتھوں کی لکیریں کچھ دنوں سے بہت آسان ہوتی جارہی تھیں پھر اک الجھن نکالی الجھنوں سے ابھی منزل دکھائی کیسے دے گی ابھی پالا پڑا ہے رہزنوں سے یہ آگ اور خون کیسے گوندھتے ہیں کبھی پوچھے کوئی کوزہ گروں سے

Read More

رمزی آثم ۔۔۔ دو غزلیں

کوئی تمثیل نہیں ہے یہاں پیارے میری نقل کرتے ہیں فلک پر یہ ستارے میری میں نے اک پیڑ لگایا کہ یہاں چھاؤں رہے جان لینے پہ تلے ہیں یہاں سارے میری مچھلیاں دیکھ کے چپ چاپ پلٹ جاتی ہیں کوئی اوقات نہیں جھیل کنارے میری اس سے کہنا کہ جہاں کوئی نہ ہو میں بھی نہ ہوں اس سے کہنا وہاں تصویر اتارے میری دوستو تم ہی بتاؤ مجھے کیسا ہوں میں کوئی رائے نہیں بنتی مرے بارے میری ۔۔۔ کسی چراغ کسی روشنی کو مت دیکھو ہمارے ساتھ…

Read More

نائلہ راٹھور ۔۔۔ بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا

بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا "اک دیا تم سے محبت کا جلایا نہ گیا” دیکھتے دیکھتے ہوتے گئے یوں رستے جدا تم سے روکا نہ گیا مجھ سے بلایا نہ گیا ہم سے گر تم ہو گریزاں تو گریزاں ہی رہو فاصلہ ہم نے بڑھایا بھی، بڑھایا نہ گیا آج بھی رات میں سناٹے ڈراتے ہیں مجھے آج بھی دل سے اس آسیب کا سایا نہ گیا تم نے سوچا ہے کبھی کیسے گزرتی ہے مری تم نے پوچھا نہیں اور ہم سے بتایا نہ گیا

Read More

راحت اندوری

اجنبیت کی بستی میں بقا کی تمنا لیے، شاعر نے دشمنوں کے درمیان دل تھام کر قدم رکھا ہے۔
جہاں ہمدردوں کی گنتی انگلیوں پر ہو، وہاں ہر سانس بھی گویا جرأتِ اظہار کا استعارہ بن جاتی ہے۔

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اے بہ رخ مصحف گلزار و چراغ حرم غنچگی و آیۂ گل باری و قرآن بہار

یہ غزل جوش ملیح آبادی کی خطیبانہ جولانی، استعارہ ساز فطرت، اور آتش بیانی کی درخشندہ مثال ہے۔
زبان میں ایک طرف فصاحت و بلاغت کی روانی ہے تو دوسری طرف فکر و جذبہ کی طغیانی۔
شاعر نے بہار کو محبوبِ خوابیدہ، پیامبرِ نشاط، اور روحِ جہاں کی صورت مخاطب کیا ہے۔
موضوع میں کائناتی افسردگی، تہذیبی جمود، اور حیاتِ نو کی پکار نمایاں ہے۔
یہ کلام محض غزل نہیں، بلکہ نثرِ مسجع کا نغماتی ارتعاش اور جوشیانہ سرشاری کا آئینہ دار ہے۔

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ دو غزلیں

میں حرف حرف ہوا ہوں گریز پائی سے تجھے کمال میسّر ہے آشنائی سے میں کب تلک یونہی لڑتار ہوں حقوق کی جنگ شکست کھائے چلا جائوں نارسائی سے رقابتوں کا یہ دیرینہ کھیل ختم بھی ہو کہ تھک گیا ہوں میں اس پنجہ آزمائی سے سمیٹ لوں میں ابھی ذات کی توانائی پھر ایک حشر اٹھے گا مری اکائی سے انیس! جھیل رہا ہوں مسافتوں کے عذاب کہ منزلیں ہیں عبارت شکستہ پائی سے ۔۔۔۔ پسِ مژگاں اذیّت سہہ رہا ہے سمندر قطرہ قطرہ بہہ رہا ہے دریچے میں…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ دو غزلیں

حل نہیں تھا کوئی ، احباب کی رائیں تھیں بہت اِک دِیا طاق میں تھا اور ہوائیں تھیں بہت زندگی ! کیسے مقابل تِرے آ سکتا تھا مَیں اکیلا تھا تِرے ساتھ بلائیں تھیں بہت بعض کو زہر ہی تریاق ہے ، جیسے کہ ہمیں عشق نے شانت کیا، ورنہ دوائیں تھیں بہت واں مِرے جبہ و دستار بھلا کیا کرتے محفلِ شوق میں رنگین قبائیں تھیں بہت دل کی بیماری ہی لاحق ہُوئی ، اچھا ہی ہُوا ورنہ تو اور بھی جاں لیوا وبائیں تھیں بہت جرمِ اُلفت میں…

Read More