نذیر حسین بٹ ۔۔

ہر دور کے یزید کی مجلس میں بیٹھ کر دیتے ہیں لوگ گالیاں گذرے یزید کو

Read More

ہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ ۔۔۔ ذیشان سید

ہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ حمد سے والناس کی تفسیر کا بانی حُسینؑ کاتبِ تقدیر کی تقدیر کا بانی حٗسینؑ دے دیئے بیٹے کسی کو تو کسی کو پر دیے لوح پہ لکھی ھُوئی تقدیر کا بانی حُسینؑ جُھک گئے سارے پیغمبر جب چڑھا نیزے پہ سَر دہر میں اسلام کی توقیر کا بانی حُسینؑ از سرِ نو کربلا میں زندگی بخشی جسے مذہبِ اسلام کی تعمیر کا بانی حُسین

Read More

سلام ۔۔۔ ممتاز گورمانی

بھولا نہیں ہوں اصغرِ تشنہ کو آج تک رکھے ہوئے ہوں آنکھ میں دریا کو آج تک ۔ خیمے میں اک چراغ بجھا کر مرا امام للکارتا ہے ظلمتِ دنیا کو آج تک ۔ صحرا میں ایک قافلہ آیا تھا، اس کے بعد صحرا نہیں کہا گیا ، صحرا کو آج تک ۔ کچھ یوں منافقوں سے ہوئے منتقم حسین گالی بنا کے رکھ دیا کوفہ کو آج تک ۔ رہتا ہے میری آنکھ میں اشکوں کا اک ہجوم لشکر سلام کرتے ہیں تنہا کو آج تک ۔ احسان، دینِ…

Read More

حفیظ جالندھری ۔۔۔ سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین

سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین لباس ہے پھٹا ہوا ،غبار میں اٹا ہوا تمام جسمِ نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر اٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سے یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ…

Read More

افتخا عارف ۔۔۔ مظہرِ خوشنودئ داور علم عباس کا

مظہرِ خوشنودئ داور علم عباس کا ایک دن لہرائے گا گھر گھر علم عباس کا کیسا لگتا ہوں مین جب کرتا ہوں مدح اہل بیت کیسا لگتا ھے مرے سر پر علم عباس کا ہم غلامانِ در مشکل کشا، مشکل کے وقت چومتے ہیں یاعلیؑ کہہ کر علم عباس کا کون جانے روزِ عاشورہ فرازِ نور سے دیکھتے ہوں فاتحِ خیبر علم عباس کا اک پھریرا اک نشانِ خیر اک ننھی سی مشک ہر دلِ مومن کو ازبر ہے علم عباس کا کاش سن پاؤں کسی رہوار کے قدموں کی…

Read More

افتخار حیدر ۔۔۔ گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت

گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت شبیر نے لکھ دی سرِ دیوار حقیقت اکبر کی اذاں ،اصغرِ بے شیر کی مسکان اور قاسمِ ذی جاہ کی للکار حقیقت گو شام کی آندھی نے اسے گھیرا ہے لیکن نیزے پہ نظر آتی ہے ضوبار حقیقت ہر دور میں فتووں کے غلاف اس پہ چڑھے ہیں تاریخ بتاتی رہی ہر بار حقیقت سجاد نے جھٹلایا سرِ تخت عدو کو زینب نے بتائی سرِ دربارِ حقیقت

Read More

سلام بحضور امامِ عالی مقام ،حسین علیہ اسلام ۔۔۔ خالد معین

سلام بحضور امامِ عالی مقام ،حسین علیہ اسلام عالی نسب ہیں صاحب ِ کردار ہیں حسین تیرہ شبی میں صبح کے آثار ہیں حسین ہے کر بلا سبھی کے لیے درسِ آگہی ہر انقلابِ وقت کےسردار ہیں حسین حُر کے نصیب جاگے ،پلٹ آیا شاہ تک اب اُس کی رفعتوں کے نگہ دار ہیں حسین یہ راستہ فنا کا نہیں ہے ،بقا کا ہے ساری صعبتوں سے خبردار ہیں حسین خالد معین اپنا تو ایمان ہے یہی حق آشنا ہیں ،حق کے علم دار ہیں حسین

Read More

قتیل شفائی

برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی مدینے کے سفر کا بس اتنا سا اثاثہ ہے قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے

Read More

افتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے

شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہے محبتوں…

Read More

سلامیہ ۔۔۔ پرویز ساحر

سلامیہ کرے نہ کیوں زمانہ احترام ‘ یا حُسَین ! بَلنـــد تر ہــے آپ کا مقام ‘ یا حُسَین ! کب اَصغر و سکینہ کے لبوں تکــ آ سکا فرات رہ گیا ہے تَشنہ کام ‘ یا حُسَین ! اُنھی دِنوں میں عام قتل و خُوں کِیا گیا کہ جن دِنوں میں جنگ ہے حرام ‘ یا حُسَین  ! یہ آپ کے کلامِ خُوش اثر کا ہے کمال کہ حُر بھی آپ کا ہُوا غُلام ‘ یا حُسَین ! تمام تَشنگاں  نے جام نوش کر لیے کہ جام بھی شہادتوں…

Read More