میں سوچتا ہوں مگر خواب تک نہیں جاتا ابھی میں قریۂ مہتاب تک نہیں جاتا میں جانتا ہوں مرا ہم مزاج ہے دریا کسی بھی حال میں سیلاب تک نہیں جاتا وگرنہ وہ تو مجھے چھوڑ کر چلے جاتے مرا جنوں مرے احباب تک نہیں جاتا سفید پوشی میں اپنا بھرم رکھے ہوئے ہوں کبھی میں ریشم و کمخواب تک نہیں جاتا سُخن وری بھی تو اقبال رایگاں ٹھہری یہ راستہ بھی تو اسباب تک نہیں جاتا
Read Moreانصر منیر ۔۔۔ چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے
چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے میرے حصے میں محبت کے خسارے آئے دشتِ ہجراں میں بھلا شوق سے آتا ہے کوئی جو بھی آئے تھے کسی زعم کے مارے آئے دل تو ویسے بھی ہے اک کارِ زیاں پر مائل پر میں کہتا ہوں کہ یہ کام تمھارے آئے مجھ پہ چلتا تو نہیں کارِ مسیحا پھر بھی گردِ احساسِ تمنا کو اتارے، آئے باپ مرتا ہے تو پھر خواب بھی مر جاتے ہیں پھر نہ معصوم سے بچے کے غبارے آئے کوئی تو ایک سہارا بھی کہیں…
Read Moreخالد احمد
مسمار کر چلے ، مرے معمار کیوں مجھے کچھ نقص مجھ میں تھا کہ مرے بانیوں میں تھا
Read Moreفیض رسول فیضان ۔۔۔۔ نقشِ وفا نکھارنے والا ، نہ تُو نہ میں
نقشِ وفا نکھارنے والا ، نہ تُو نہ میں اپنی انا کو مارنے والا ، نہ تُو نہ میں دونوں بلا کے چرب زباں ہیں ، یقین کر زُلف ِ عمل سنوارنے والا ، نہ تُو نہ میں اوڑھے ہوئے لبادۂ صدق و صفا ، مگر حق ہُو ، بہ دل پُکارنے والا ، نہ تُو نہ میں جس کو ترس رہی ہے اداکاریٔ خرد سچّا وہ رُوپ دھارنے والا ، نہ تُو نہ میں کٹتی ہے جس جگہ پہ زباں ، لب کشائی پر شیخی وہاں بگھارنے والا ،…
Read Moreمرزا آصف رسول ۔۔۔ العروۃ الوثقی
العروۃ الوثقی ۔۔۔۔ کمالِ شعر و سخن ہے ثنا محمدؐ کی یہ ضو ہے صل وسلم علی محمدؐ کی رہا خلیل کے لب پر جو ربنا وابعث ہے وہ تتمۂ کعبہ دعا محمدؐ کی نزاعِ نور و بشر کا جہان کیا جانے؟ کہ شانیں اس سے بھی اونچی ہیں کیا محمدؐ کی؟ خدا کا فیصلہ لا ترفعوا ابد تک ہے کہ ہے ہر آیتِ قرآں صدا محمدؐ کی بچے گا گردشِ دوراں کی ظلمتوں سے وہی ہے جس کا عروۂ وثقیٰ ضیا محمدؐ کی وہ نعرہ ہے اسی جرأت کا…
Read Moreریاض ندیم نیازی ۔۔۔ اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی
اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی رہ گئیں تیری عادتیں باقی بٹ گیا دل تو کرچیوں میں، پر ہیں سبھی میں شباہتیں باقی دیکھ بے نور ہو گئیں آنکھیں ہیں مگر اِن میں حسرتیں باقی پھول کلیوں میں اِس چمن کے اب رنگتیں ہیں نہ نکہتیں باقی میرے خوابوں میں اور کچھ بھی نہیں یار کی ہیں شباہتیں باقی کر چکا ہوں وضاحتیں ساری پھر بھی ہیں کچھ وضاحتیں باقی لذّتِ عشق کھو گئی لیکن رہ گئی ہیں اذیتیں باقی ایک مدّت سے چل رہا ہوں ندیمؔ ’’اور ہیں کتنی…
Read Moreنثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر تو اِسی میں اِک دن عذاب راتوں کے قافلوں کو صبحِ منزل اُجال لے گی تلاشِ منزل کی اِس لگن میں، اگرچہ پائوں پہ آبلے ہیں مگر یقیں ہے، مجھے یقیں ہے کہ حشر تک بھی وہ ساری آنکھیں کھلی رہیں گی جنھیں سحر کی کسی تمنا نے رَت جگوں کا ملال بخشا مجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے یہ خوں کے دریا رواں نہ ہوں گے دیارِ اقدس کے زرد آنگن میں بسنے…
Read Moreصغیر احمد صغیر ۔۔۔ خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں
خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں سچ بتاؤں تو کوئی دل میں طلب ہے ہی نہیں لاکھ بتلاتا ہوں پھر بیچ میں لے آتے ہو مسلکِ عشق میں یہ نام و نسب ہے ہی نہیں حیف صد حیف یہاں کوئی گنہگار نہیں کیسی محفل ہے طلب گار و طلب ہے ہی نہیں نہیں معلوم کہ غمگین ہوں کس کی خاطر مسئلہ یہ ہے کوئی غم کا سبب ہے ہی نہیں عہد و پیمان ، شکایات ، جنوں ، میخانے عقل والوں کے نصیبوں میں یہ سب ہے ہی…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کون
یہ غزل جوش ملیح آبادی کی تخیل انگیز، شہوانی و روحانی، وجدانی اور تمثیلی شاعری کا نادر و نایاب شاہکار ہے، جس میں حس، خواب، بدن، عشق، موسیقی، روشنی، ذہن، اور روح سب بیک وقت متحرک ہیں۔ پوری غزل ایک ہی سوال پر قائم ہے:
"یہ کون؟”
جیسے عشق، وجود، کائنات، فطرت، نسوانی حسن، اور الوہی اسرار — سب مل کر ایک منظرنامۂ تجلیات تشکیل دے رہے ہوں۔
Read Moreنجیب احمد
خیمۂ جاں کی طنابوں کو اکھڑ جانا تھا ہم سے اک روز ترا غم بھی بچھڑ جانا تھا
Read More