صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا

اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں جس میں ڈھل گیا کہ میرے خد و خال ہیں، وہی جو تھے مگر مرا نظام انہضام اب بدل گیا میں اپنے وقت کا ہوں کوئی اژدھا اگر نہیں تو گزرے وقت کا میں کوئی ڈائنوسار ہوں میں دشت میں لگے ہوئے اک ایک پیڑ کی ہر ایک شاخ تک کو کھا گیا پیٹ پھر نہیں بھرا تو کوئلے کی کان بھی جو راہ میں پڑی ہر اک چٹان بھی چبا گیا ہزارہا جتن…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ فہمیدہ ریاض

فہمیدہ ریاض فہمیدہ ریاض کا کہناتھا کہ: ’’ فیمنزم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ میرے نزدیک فینزم کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح عورت بھی ایک مکمل انسان ہے جس کی لا محدود ذمہ داریاں ہیں۔ ان کو بھی امریکی کالے یا دلت کی طرح سماجی برابری حاصل کرنے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ عورتوں کو معاملہ مزید سنگین ہے۔ ان کو بلا جھجک اور بغیر کسی پریشان کا سامنا کیے ہوئے سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے۔ ان کو تیرنے، محبت کی شاعری کرنے کی آزادی ہے،…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے

جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے جب بھی آتی ہے تری یاد رُلا دیتی ہے بیکراں وقت کی اس کوکھ میں پلتی ہوئی سوچ اک نئی صبح کی آمد کا پتہ دیتی ہے سوچتا ہوں کہ کہیں تیرے تعاقب میں نہ ہو وہ اذیت جو مری نیند اُڑا دیتی ہے تیری تصویر مرے گھر میں جو آویزاں ہے خواب کو وہم کی تعبیر دکھا دیتی ہے غرقِ گردابِ مصائب مجھے کرنے والے! موجۂ کاہشِ جاں تجھ کو دُعا دیتی ہے ذہن آسیب زدہ سوچ کا پتھر ہے تو…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں

ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں تمہارا نام ہر اک پیڑ پر لکھوں گا میں ہر ایک پیڑ پہ چڑھ کے تمہیں پکاروں گا ہر ایک پیڑ کے نیچے تمہیں ملوں گا میں ہر ایک پیڑ کوئی داستاں سنائے گا سمجھ نہ پاؤں گا لیکن سنا کروں گا میں تمام رات بہاروں کے خواب دیکھوں گا گرے پڑے ہوئے پتوں پہ سو رہوں گا میں اندھیرا ہونے سے پہلے پرندے آئیں گے اجالا ہونے سے پہلے ہی جاگ اٹھوں گا میں تمہیں یقین نہ آئے تو کیا…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔۔ ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی

ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی درد کو دل سے محبت ہو گئی کیا جوانی جلد رخصت ہو گئی اک چھلاوا تھی کہ چمپت ہو گئی دل کی گاہک اچھی صورت ہو گئی آنکھ ملتے ہی محبت ہو گئی فاتحہ پڑھنے وہ آئے آج کیا ٹھوکروں کی نذر تربت ہو گئی لاکھ بیماری ہے اک پرہیز مے جان جوکھوں ترک عادت ہو گئی تفرقہ ڈالا فلک نے بارہا دو دلوں میں جب محبت ہو گئی وہ گلہ سن کر ہوئے یوں منفعل عاید اپنے سر شکایت ہو گئی دوستی کیا…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے

گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے نگاہِ نا رسا تک پر کھُلا ہے ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے اثر ناؤ پہ جتلانے کو اپنا سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں قرابت دار وہ ، دربار کا ہے کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے…

Read More

نسیم سحر ۔۔۔ مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا وہاں نہیں ہوں جہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا سوال مجھ سے ہؤا ہے، مَیں کیوں نہیں ہوں وہاں جواب یہ ہے کہ ہاں ، مُجھ کو ہونا چاہیے تھا یہ میرے عہد کی اَرزانیوں نے ظلم کیا وگرنہ اَور گراں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا چلا تھا شوق سے جب منزلِ یقیںکی طرف وَرائے وہم و گماں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا بڑی شدید تھی خاموشی صحنِ مسجد کی وہاں بوقتِ اذاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا قدم قدم پہ…

Read More