جانے کیا برسا تھا رات چراغوں سے بھور سمے سورج بھی پانی پانی ہے
Read Moreخاطر غزنوی
اُن آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی
Read Moreمحسن اسرار
اکیلے پن کو مرے سلطنت کا درجہ دے پھر اس کے بعد مجھے اُس کا بادشاہ بنا
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی
Read Moreآہ سنبھلی
چراغِ طاق نسیاں سے نہ جلتے ہو نہ بجھتے ہو تمھیں اک دن ہَوا سے بھی لپٹ کر دیکھ لینا تھا
Read Moreنوشی گیلانی
اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
Read Moreڈاکٹر محمود ناصر ملک
یہ شہر جل چکا ہے بچانے کو کچھ نہیں اس راکھ سے بھی اب تو اٹھانے کو کچھ نہیں
Read Moreسجاد بلوچ
ذرا سے پھل کے لیے شاخ توڑ لی تم نے یہ بھوک کی تو علامت نہیں، ہوس کی ہے
Read Moreمنور لکھنوی
اس میں بھی روشنی ہے اس میں بھی روشنی تھی میرا بھی ہے وہ سینہ موسیٰ کا تھا جو سینہ
Read Moreانصر منیر ۔۔۔ جیسے ساری خدائی حاصل ہے
جیسے ساری خدائی حاصل ہے مجھ کو تم تک رسائی حاصل ہے اب میں نبضِ جہاں چلاتا ہوں مجھ کو تیری کلائی حاصل ہے یوں تو نفرت ہے چار سو میرے بس محبت کی پائی حاصل ہے مجھ کو درکار تھی محبت جو سن لو مجھ کو وہ بھائی حاصل ہے خرچ کرتا ہوں میں کھلے دل سے جو ذرا سی کمائی حاصل ہے
Read More