کھلی فضا میں چلیں کیا کسی کا ڈر محسن جو ہونی تھی وہ تباہی تو ہو چکی اپنی
Read MoreTag: محسن اسرار کی تخلیقات
محسن اسرار
اُسی نے پیار کیا تھا اُداس بھی ہے وہی مگر یہ بوجھ ہماری بھی جان پر کچھ ہے
Read Moreمحسن اسرار
مرے وجود کے اندر اِدھر اُدھر کچھ ہے خبر نہیں یہ گماں ہے کہ ڈر مگر کچھ ہے
Read Moreمحسن اسرار
ہذیان بک رہا ہوں سخن کے بجائے میں تنبیہ کر رہا ہوں کہ مجنوں سنے مجھے
Read Moreمحسن اسرار ۔۔۔ پرائے دکھ بھی اپنے ہو گئے ہیں
پرائے دکھ بھی اپنے ہو گئے ہیں سبھی رنگ ایک جیسے ہو گئے ہیں گزرتے ہی نہیں لمحوں کی صورت نہ جانے کیسے لمحے ہو گئے ہیں لکھی ابلیس نے جھوٹی کہانی مگر کردار سچے ہو گئے ہیں بہت احسن طریقے سے بنے تھے مگر ہم لوگ کیسے ہو گئے ہیں عجب دیوار ہے ہستی ہماری دریچے ہی دریچے ہو گئے ہیں مگر اب تو ہمارے روز و شب بھی عدالت کے کٹہرے ہو گئے ہیں پیامی کو قضا نے آ لیا ہے ! کبوتر ، باز جیسے ہو گئے…
Read Moreمحسن اسرار
کیا رنگ لائے دیکھیے معصومیت کا دکھ ہر شخص ہی پکارتا ہے پیار سے مجھے
Read Moreمحسن اسرار
مجھے تو خیر سے مارا گیا ہے مگر وہ لوگ جو خود مر گئے ہیں
Read Moreمحسن اسرار
بے خبری میں ہونٹ دیے کی لو کو چومنے والے تھے وہ تو اچانک پھوٹ پڑی تھی خوشبو رات کی رانی سے
Read Moreمحسن اسرار
مجھے جہاں سے نہ یوں سرسری گزارا جائے مرے خدا! مجھے آواز دے کے مارا جائے
Read Moreمحسن اسرار
مشہور ہے دروازے پہ دستک کی کہانی دیوار میں در ہونے کا قصہ کسے معلوم
Read More