کب لوٹو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نہ کہتی تھی! تم چلے جائو گے اور تم چلے بھی گئے گرمیوں کی مختصر راتیں کس قدر طویل ہونے لگی ہیں چھڑکائو سے اٹھی آنگن کی سوندھی خوشبو رات کی رانی، بیلا اور جوہی یہ سب بھی تم اپنے ساتھ ہی لیتے گئے نومبر ختم پر ہے ٹھٹھرے دسمبر کی پہاڑ راتیں آنے والی ہیں کھٹی املیاں کھاتی، چہل کرتی پڑوسنوں کو اون کے گولے اور سلائیاں لیے دھوپ سینکتے دیکھتی رہتی ہوں نرملا کو نواں مہینہ لگا ہے اس کا پتی اسے روز…
Read MoreTag: اور میں
مچھلیاں کون کھا گیا ۔۔۔۔۔۔ محمد علوی
مچھلیاں کون کھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر یوں ہوا راہ میں اک سمندر ملا گہرا ۔۔۔۔ طوفانی ۔۔۔۔۔ بپھرا ہوا اور پھر یوں ہوا سمندر کی پھیلی ہوئی سطح پر سنہری ۔۔۔۔۔۔ روپہلی مچھلیاں بچھ گئیں اور میں بھاگتا ۔۔۔۔ دوڑتا بیس صدیوں میں اس پار پہنچا تو دیکھا سمندر کے اس پار کچھ بھی نہ تھا اور میرے عقب میں چمکتا ہوا گہرا گمبھیر پانی کھڑا تھا مچھلیاں کون مَیں کھا گیا تھا
Read More