ڈاکٹر رشید جہاں ڈاکٹر رشید جہاں پہلی ترقی پسند خاتون تھیں جو عملی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئیں بل کہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ اِس تحریک کے بانی اراکین میں شامل تھیں۔۱۹۰۵ء میں متحدہ ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد شیخ عبداللہ علی گڑھ کے معروف ماہر تعلیم اور علی گڑھ کالج برائے خواتین کے بانی تھے۔حکومتِ ہند کی طرف سے تعلیمی خدمات پر انہیں پدم بوشن ایوارڈ بھی دیا گیا۔اُن کی والدہ وحید شاہجہاں بیگم ایک رسالہ ’’خاتون‘‘…
Read MoreTag: اکرم کنجاہی
اکرم کنجاہی ۔۔۔ حجاب امتیاز علی
حجاب امتیاز علی حجاب امتیاز علی اُردو ادب کی پہلی فکشن نگار خاتوں ہیں جنہوں نے تحیر آمیزی اور خوف ناکی سے اُردو ادب کے قاری کے چونکایا۔ مزید براں انہوں نے کوشش کی کہ افسانے کی فن کی روح اور تیکنیک پر عمل کیا جائے۔وہ ماحول کو سحر زدہ کر کے قاری کو متجسس کر دیتی تھیں۔اُن کا اسلوب بر جستہ اور مرصع ہوتا تھا۔اُن کے پلاٹ میں رومانیت بھی تھی اور وہ زیادہ تر متمول اور اونچے گھرانوں کے کرداروں کے گرد گھومتا تھا۔ اُ‘ن کے موضوعات میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نذر سجاد حیدر
نذر سجاد حیدر نذر سجاد حیدرکا شمار اُردو کی اولین خواتین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد مضامین اور مختصر کہانیوں کے علاوہ اصلاحی و معاشرتی ناول بھی لکھے۔ نذر سجاد حیدر نے بیسویں صدی کے اوائل میں اپنا تخلیقی سفر شروع کیا۔ یہ سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا دور تھا۔ ایک طرف لوگ انگریزی حکومت کے خلاف حصول آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری طرف ہندوستان کے روایتی معاشرتی ڈھانچے میں زبردست تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔انہوںنے کئی ناول لکھے جن میں اختر النسا، آہ مظلوماں،نجمہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ عذرا اصغر
عذرا اصغر عذرا اصغر کا شمار اِس وقت ہمارے سینئر اور منجھے ہوئے فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔وہ تقسیمِ ہند سے پہلے ۱۹۴۰ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔گھر میں ایک بڑی بہن اور دو بڑے بھائیوں کے بعد چھوٹی اولاد تھیں یعنی بچپن میں گھر بھر کاپیار ملا مگر والد کی دوسری شادی کی وجہ سے ہجرتیں بھی مقدر بنیں۔علمی تربیت دادا نے کی۔مسافرت اتنی رہی کہ تعلیمی سلسلہ بار بار ٹوٹتا جڑتا رہا۔ پاکستان ہجرت کی تو گوجرانوالہ سے سرگودھا اور پھر فیصل آباد میں آباد ہوئیں۔بعد ازاں لاہور،…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ شبہ طراز
شبہ طراز علم وادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے محترمہ شبہ طراز کا نام نیا نہیں ہے۔وہ شاعرہ، مصورہ، مدیرہ اور افسانہ نویس ہیں۔’اُن کی طبع شدہ کتب میں ’’جگنو ہنستے ہیں‘‘ (ہائیکو اور ماہیے)، ’’جھیل جھیل اداسی‘‘ (نظمیں)، ’’چاندنی میں رقص‘‘ (ہائیکو تراجم)، درد کا لمس (افسانے)، ریپنزل (نظمیں، غزلیں) شامل ہیں۔عذرا اصغر کے کراچی چلے جانے کے بعد ماہ نامہ تجدیدِ نو کو سہ ماہی جریدے میں بدل کر اس کا دوبارہ اجرا کیا لیکن کچھ مشکلات آڑے آئیں تو پرچہ بند کرنا پڑا۔کرشن چندر اِن کے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ زیتون بانو
زیتون بانو اُردو اور پشتو کی نام ورشاعرہ، ادیبہ، ڈراما نگار ۱۸؍ جون ۱۹۳۸ء کے روز پشاور میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد بھی اپنے زمانے کے معروف روشن خیال ادیب تھے۔وہ ابتدا میں فرضی ناموں سے ادبی جریدوں میں لکھتی رہیں۔پشتو اور اُردو میں اعلیٰ تعلیم کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں۔ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے ڈرامے لکھے۔ابھی طالبہ ہی تھیں کہ اُن کا پشتو افسانوں کا مجموعہ ہُنڈارہ (آئینہ ۱۹۵۸ء) شائع ہوا۔دوسرا مجموعہ مات بنگری (ٹوٹی چوڑیاں) شائع ہوا۔ مجموعی طور پر اُن کی پشتو میں آٹھ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ مسرت افزا روحی
مسرت افزا روحی مسرت افزا روحی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔شاعرہ، ادیبہ، صحافی،مدیرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ اُن کا شعری مجموعہ ’’حرزِ جاں‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ صحافت کو بھی اپنایا اور ’’زاویۂ نگاہ‘‘ کی مدیرہ رہی ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آوازیں‘‘ ۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔اُن کا مطالعہ خوب ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ کئی افسانے لکھنے کے لیے انہوں نے خاصی تحقیق بھی کی ہے۔قوتِ مشاہدہ تیز ہے۔وہ بھی اُن چند فکشن نگاروں میں سے ہیں جن کے افسانوں کا اختتامیہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔ قرۃ العین حیدر
قرۃالعین حیدر یہ الگ بحث ہے کہ اُردو میں نیا افسانہ کیا ہے ؟ مگر بہت سے نا قدین کے بر عکس جنہوں نے کرشن چندر کے ’’غالیچہ‘‘ یا منٹو کے ’’پھندنے‘‘ کو نئے افسانے کا آغاز قرار دیا ہے، محمود ہاشمی اختلاف کرتے ہوئے قرۃ العین کو نئے افسانے کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔انہوں نے تقسیم ہند سے قبل لکھنے کی ابتدا کر دی تھی مگر آزادی کے بعد جو کچھ لکھا وہ آئندگان کے لیے نشانِ راہ ثابت ہوا۔شروع کی کچھ تخلیقات میں اسلوب روایتی تھا مگر…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ممتاز شیریں
ممتاز شیریں ممتاز شیریں نے اُردو افسانے ہی میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ حسن عسکری کی ٹھریک پر وہ ایک بہترین ادبی ناقد کے طور پر بھی نمایاں ہوئیں۔اکثر ناقدین فن کا خیال ہے کہ اُں کے اکثر افسانوں میں سوانحی رنگ، ذاتی زندگی، میاں بیوی کی والہانہ محبت، خوش گوار زندگی، استوار تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔بہر حال اگر ذاتی زندگی اور تجربات کو بھی افسانوں کا موضوع بنایا جائے تو اِس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔اُن کے افسانوں میں اکثر پلاٹ اسی نوعیت کے ہیں۔جیسے اُنہوں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ سائرہ ہاشمی
سائرہ ہاشمی ۱۴ ؍اپریل ۱۹۳۷ء کے روز امرتسر میں پیدا ہوئیں۔تعلق ساہیوال سے تھا۔ تقسیمِ ہندسے پہلے ہی اُن کے والد کا ساہیوال آنا جانا رہتا تھا۔لہٰذا قیامِ پاکستان کے بعد اُنہوں نے یہاں مستقل رہائش اختیار کی۔ وہ ممتاز فکشن نگار جمیلہ ہاشمی کی بہن تھیں۔انہوں نے ناول اور افسانوں کے علاوہ ایک سفر نامہ بھی لکھا۔اُن کے افسانوں کا غالب رنگ المیہ اور حزنیہ ہے، جس کی بنیاد انسانی رشتوں سے جُڑے ہوئے دکھ درد ہیں۔ اُن کے ہاں فکشن کی فضا اگرچہ کئی مقامات پر جذباتیت میں…
Read More