رضیہ فصیح احمد پاکستانی ناول نگار خواتین میں رضیہ فصیح احمد کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔وہ مراد آباد (متحدہ ہندوستان) میں ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہو گئیں۔پہلا افسانہ ’’نا تمام تصویر‘‘ ۱۹۴۸ء عصمت کراچی میں شائع ہوا۔افسانوی مجموعے دو پاٹن کے بیچ، بے سمت مسافر، یہ خواب سارے، بارش کا آخری قطرہ، کالی برف کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔یوں ان کی ابتدائی شہرت ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوئی۔وہ اپنے افسانوں کی بنیادی اپنے گردو پیش…
Read MoreTag: اکرم کنجاہی
اکرم کنجاہی ۔۔۔ رشیدہ رضویہ
رشیدہ رضویہ رشیدہ رضویہ کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کی وہ حق دار تھیں۔ خاص طور پر اُن کا ناول ’’گھر میرا راستے غم کے‘‘ سراہا جانا چاہیے تھا۔ اُن کے ناولوں میں تاریخ اور فکشن ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنے کے لیے بعض اوقات ایک دوسرے سے دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ابتدا میں رشیدہ رضویہ کے افسانوی مجموعے ’’شہر سلگتا ہے‘‘،’’کھنڈر کھنڈر بابل‘‘ (۱۹۵۹ء)کے نام سے سامنے آئے۔ بعد ازاں انہوں نے تین ناول لکھے:َ جن میں’’لڑکی ایک دل کے ویرانے میں‘‘ (۱۹۶۷ء) میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ جیلانی بانو
جیلانی بانو جیلانی بانو کے ہاں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔اُن کے اکثر افسانوں کا مرکزی کردار عورت ہی ہوتی ہے۔ وہ ادب میں وارد ہوئیں تو ایک طرف رشید جہاں اور عصمت کے اسلوب بیاں کا طوطی بول رہا تھا تو دوسری طرف قرۃ العین اور خدیجہ اپنے پیش روؤں کے بنائے ہوئے راستوں کو کشادہ کر رہی تھیں۔ موضوعات میں گو نا گونی پیدا ہو چکی تھی۔ جیلانی بانو اِن خواتین کی نسبے سرسید کی تحریکِ اصلاح سے زیادہ متاثر تھیں۔ اُن کی ادبی شخصیت کی کئی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بانو قدسیہ
بانو قدسیہ بانو قدسیہ ۸ ؍نومبر ۱۹۲۸ ء کے روز فیروز پور مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہوئیں۔ انہیں زیادہ شہرت اُن کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے ملی جو ادبی حلقوں میں زیرِ بحث رہتاہے مگر اُن کے کئی افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے جن میں ناقابلِ ذکر، توجہ کی طالب(افسانوی کلیات)، امر بیل، باز گشت، کچھ اور نہیں، دانت کا دستہ، آتشِ زیرِ پااور دوسرا قدم، دوسرا دروازہ شامل بھی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانہ’’وا ماندگیٔ شوق‘‘ ۱۹۵۰ء میں ادبِ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بشری رحمن
بشری رحمن بشری رحمن۱۹۴۴ ء میںبہاول پور میں پیدا ہوئیں۔اُردو، پنجابی اور سرائیکی میں لکھتی ہیں۔ اُن کی شخصیت کی کئی جہات ہیں۔ناول نگار، افسانہ نگار، سفرنامہ نگار، شاعرہ، مقررہ، سیاست دان اورسماجی خدمت گارڈیڑھ درجن کے قریب ناول اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔مثلاً بت شکن، چپ، پشیمان،پیاسی،چارہ گری،خوبصورت،عشق عشق،قلم کہانیاں، مولانا ابو الکلام آزاد، ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو،کائنات بشیر۔اُن کے کئی ناولوں کوٹیلی وژن چینلز نے ڈرامائی تشکیل دی۔ پاکستان میں پہلی باقاعدہ خاتون کالم نگار جنگ اور نوائے وقت میں ’’چادر، چار دیواری اور چاندنی‘‘ بے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیدہ شاہین
حمیدہ شاہین اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’دستک‘‘جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل تھا، ۲۰۰۵ء میں منظر عام پر آیا۔اُن کی شاعری در اصل جدید حسّیت اور عصری حسّیت کا عمدہ امتزاج ہے۔وجدانی کیفیات اور شعوری تجربات و مشاہدات کا حسنِ توازن ہے۔ اِس لیے یہ آج کی حقیقی شاعری ہے جو اُردو غزل کا تاریخی ارتقا بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور لچک دار اِس قدر ہے کہ عصری آشوب سے بھی پہلو تہی نہیں کرتی۔ اسلوبِ بیاں ایسا کہ روایت سے آگہی کلام میں جھلکتی محسوس…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ تزئین راز زیدی
تزئین راز زیدی تزئین راز زیدی کاتعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ تین شعری مجموعے راز داں‘ مضرابِ رگ جاں اور کسک منظر عام پر آچکے ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’ریزہ ریزہ خط و خال‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اُن کے ہاں کچھ نہ کچھ اچھوتے موضوعات ضرور ملتے ہیں۔اکثر افسانے کا آغاز مکالمہ نگاری یا پھر کسی نہ کسی شعر سے کرتی ہیں کہ خود اُن کی پہلی پہچان شاعری ہے۔اِسی طرح اُن کے کئی افسانے ایسے ہیں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ خدیجہ مستور
خدیجہ مستور خدیجہ مستور اور قرۃ العین حیدر دو ایسی خواتین ہیں جن سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے بعد اُنہوں نے ایک عہد کو متاثر کیا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔خدیجہ نے اوّل اوّل شعر گوئی کی کوشش بھی کی مگر اُس میں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی کہ اللہ کریم نے انہیں ایک مختلف کلام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اُن کے ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ میں مشترک قدر یہ ہے کہ قرۃ العین نے ہندوستان…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ہاجرہ مسرور
ہاجرہ مسرور ہاجرہ مسرور ۱۷ ؍جنوری ۱۹۲۹ ء کے روز لکھنو میں پیدا ہوئیں۔اُن کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔وہ ممتاز فکشن نگار خدیجہ مستور اور نام ور شاعر خالد احمد کی بہن تھیں۔اُن کی افسانہ نگاری کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔تقسیمِ ہند سے پہلے اُن کے مجموعے ’’چرکے‘‘ اور ’’’’چاند کے اُس پار‘‘ شائع ہوئے جب کہ ’’ہائے اللہ‘‘، چھپے چوری، تیری منزل، وہ لوگ، اندھیرے اجالے اور سب افسانے میرے تقسیمِ ہند کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ اُن کے ابتدائی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ فہمیدہ اختر
فہمیدہ اختر تقسیمِ ہند سے پہلے موجودہ خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا افسانہ نگار پیدا نہیں ہوا۔ ایک نام نصیر الدین نصیر کا سامنے آتا ہے جو ۱۹۳۰ ء تک افسانے لکھتے رہے۔اُن کے افسانے زیادہ تر اصلاحی رنگ میں اور وعظ و نصیحت پر مبنی تھے۔اُن کے افسانے ادبی جرائد میں تو شائع ہوتے رہے مگر کوئی مجموعہ طبع نہیں ہوا۔ فہمیدہ اختر خیبر پختونخوا کی اُن نمایاں افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جن کی کہانیوں کے پلاٹ آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے محنت کش اور غریب مگر…
Read More