اکرم کنجاہی ۔۔۔ ام عمارہ

ام عمارہ امِ عمارہ خیبر پختونخوا کی ایک با شعور افسانہ نگار ہیں۔ہر مسئلے کو ایک غیور پاکستانی کی حیثیت سے دیکھتی، سوچتی اور پرکھتی ہیں۔۱۹۹۰ء میں جب اُن کے افسانوی مجموعہ ’’درد روشن ہے‘‘ اور آگہی کے ویرانے‘‘ شائع ہوئے تو نہ صرف فکشن نگاروں نے بل کہ ادب کے قاری نے بھی اُن کو سراہا۔ اُنہوں نے بنگلادیش سے ہجرت کاکرب سہا تھا،وہ وہاں سے یہاں خیبر پختونخوا میں آباد ہوئیں۔ سقوطِ ڈھاکہ ہمارے قومی تاریخ کا الم ناک سانحہ ہے جو ہر محبِ وطن کے مغموم کر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ نسیم انجم

نسیم انجم نسیم انجم کراچی میں مقیم ہیں۔یہیں۱۹۵۶ء میںپیدا ہوئیں۔ ممتاز فکشن نگار، صحافی،کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں۔ درس و تدریس سے بھی وابستہ رہی ہیں۔گزشتہ ۲۰؍ برسوں سے روز نامہ ایکسپریس کے لیے کالم لکھ رہی ہیں۔ماہنامہ ’’چاند گاڑی‘‘ کی مدیرہ اور’’اسپورٹس انٹرنیشنل‘‘ کی نائب مدیرہ رہی ہیں۔ریڈیو پاکستان کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔اُن کے افسانوی مجموعے دھوپ چھاؤں، گلاب فن اور دوسرے افسانے، اور آج کا انسان کے نام سے شائع ہوئے۔ناول کائنات، آہٹ، پتوار، نرک اور سر بازار رقصاں کے نام سے شائع ہوئے۔ آپ کا…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شاہدہ لطیف

شاہدہ لطیف شاہدہ لطیف کا تخلیقی کینوس بہت وسیع ہے۔ وہ شاعرہ، ادیبہ،فکشن نگار، صحافی، سفر نامہ نگار اورمورخ ہیں۔وہ تاریخِ ادب کی اُن چند فکشن نگار خواتین مثلاً عصمت چغتائی، جمیلہ ہاشمی اور رضیہ فصیح احمد میں سے ایک ہیں جنہوں نے تاریخی ناول لکھے ہیں۔مذکورہ خواتین کی فکشن نگار کی حیثیت سے گراں قدر خدمات ہیں اور اُن میں سے ہر کسی کا اپنا اسلوب بیان ہے۔اِن خواتین کی تاریخی تخلیقات کے مطالعے کے بعد جب گزشتہ دنوں مجھے شاہدہ لطیف کے تاریخی ناول ’’سلطان محمد فاتح‘‘ کا…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ جمیلہ ہاشمی

جمیلہ ہاشمی جمیلہ ہاشمی ۱۷؍ جنوری ۱۹۲۹ء کے روز امرتسر (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئیں۔تقسیمِ ہند کے بعدساہیوال میں آ کر آباد ہوئیں۔اُن کے افسانوی مجموعے ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ میں تین افسانے زہر رنگ، لہو رنگ اور شبِ تار رنگ شامل ہیں۔ اپنا پنا جہنم کو ناولٹ بھی کہا جاتاہے۔ اِس کے علاوہ آپ بیتی جگ بیتی اور رنگ بھوم شامل ہیں۔اُن کے افسانوں کی چند اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:سماجی شعور میں وسعت،شہروں اور دیہاتوں میں پرورش پانے والے کرداروں کی ذہنی کیفیات، مسائل اور الجھنوں کا بیان،جنسی موضوعات…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔ پروین فنا سید

پروین فنا سید پروین فنا سید ایک ایسی شاعرہ تھیں جنہوں نے جدت کے نام پر شعری بدعتیں قبول نہیں تھیں۔ لہٰذا اُن کی شاعری اعتدال، انسان دوستی، حسن و جمال اور اعتماد کی شاعری ہے۔اُن کا پہلامجموعۂ کلام ’’حرفِ وفا‘‘ اُن کی بیس برس کی شعری ریاضت کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کافلیپ تحریر کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے لکھا: ’’پروین فنا سیّد کی شاعری عفتِ فکر اور پاکیزگیِ احساس کی شاعری ہے۔غزل کی سی صنفِ شعر میں بھی جس میں اکثر شاعروں نے علامت اور…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ صبیحہ صبا کی شاعری

صبیحہ صبا نصف درجن کے قریب مجموعہ ہائے کلام کی خالق صبیحہ صبا کا شمار،طویل شعری ریاضت کی وجہ سے، اِس وقت اُردو کی کہنہ مشق شاعرات میں ہوتا ہے۔اُن کی شعری تربیت میںاگر ایک طرف ساہیوال جیسے مردم خیز خطے میں ادب دوست ماحول نے کردار ادا کیا تو دوسری طرف اُن کے شریکِ حیات صغیر احمد جعفری کی سخن فہمی اور ادب دوستی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ دونوں ادبی شخصیات بیرونِ ملک مقیم تھیں تو وہاں بھی اُردو منزل میں ادبی تقریبات…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ بیگم شاہین زیدی

بیگم شاہین زیدی سیدہ شاہین زیدی ۳۰؍ جولائی ۱۹۶۶ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ شاعرہ، افسانہ نگار، ناول نگار،کالم نگار، سفرنامہ نگار،مدیرہ اورمحقق ہیں۔ اُن کا خاندان ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ سسر اور پھوپھا پروفیسر ڈاکٹر نظیر حسنین زیدی ایک علمی و ادبی شخصیت تھ۔۱۹۹۷ء میں اُن کی شادی سید محمد مسعود الحسنین زیدی کے ساتھ ہوئی۔مسعود زیدی ۲۰۰۸ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ایک بیٹا محمد تابش مسعود ہے،جس کے ساتھ وہ اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔ابتدا میں انہوں نے ’’روزنامہ مشرق‘‘میں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ صائمہ نفیس

صائمہ نفیس صائمہ نفیس اِن دنوں کراچی ریڈیو اسٹیشن سے’’ادب سرائے‘‘ کے نام سے ایک ادبی پروگرام کر رہی ہیں۔معروف ادبی جریدے ’’دنیائے ادب‘‘ کی نائب مدیرہ ہیں۔آرٹس کونسل کراچی کی بہت فعال رکن ہیں اور وہاں منعقد ہونے والی تقریبات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’رودالی‘‘ کے نام سے ۲۰۰۶ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ کتاب میں کُل 16 افسانے شامل تھے۔افسانہ نگار کا اسلوبِ بیاں شائستہ، رواں، سادہ اور عام فہم تھا۔کہیں کوئی علامت اور تجرید نہیں تھی۔عدم ابلاغ کا…

Read More

راغب مراد آبادی (چند جہتیں): اکرم کنجاہی ۔۔۔ نوید صادق

میرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ راغب مراد آبادی (چند جہتیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکرم کنجاہی سے خوش گوار تعارف ان کی شاعری اور ماہ نامہ غنیمت کے حوالہ سے توایک عرصہ سے ہے ، ان کے کچھ مضامین بھی زیرِمطالعہ رہے لیکن راغب صاحب پر ان کی یہ تصنیف میرے علم میں نہ تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن فروری ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا اور اب دوسرا ایڈیشن جنوری ۲۰۲۰ء میں رنگِ ادب پبلی کیشنز ، کراچی سے اشاعت پذیر ہواہے۔ اکرم کنجاہی نے ’عرضِ مصنف‘ میں اس کتاب کو راغب شناسی کے حوالہ سے…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔۔ عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں

عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں بعد مرنے کے بہت آہ و فغاں ڈالتے ہیں کون اُٹھا ، کبھی قسمت پہ بھروسہ کر کے مردہ تن میں یہ ارادے ہیں جو جاں ڈالتے ہیں ضعف بازو ہی کا ہوتا ہے جو لڑتے لڑتے جنگ جُو تیغ و تبر، تیر و کماں ڈالتے ہیں تیری جنت میں جو رتھ فاؤ نہیں ہے، مولا ! پاک روحوں کو فرشتے یہ کہاں ڈالتے ہیں کون نکلا ہے سرابوں سے تیقّن لے کر دشت سوچوں میں مسافر کی گماں ڈالتے ہیں…

Read More