عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے اسے جس جوانی کا نام اکبر ہے حسنِ اکبر پہ ماہتاب نثار اور اکبر نثارِ اصغر ہے پیاس کو تیر مارنے والے ایک بچہ جوان لشکر ہے وار ایسا کیا تبسم کا کند بیعت کا اب بھی خنجر ہے حسن میں ہے وہ اکبر و قاسم اور شجاعت میں رشکِ حیدر ہے وہ بہتر میں اک اکیلا تھا وہ اکیلا بھی اک بہتر ہے کربلا میں تبسمِ اصغر دشت میں موج زن سمندر ہے…
Read MoreTag: محرم شاعری
توقیر عباس ۔۔۔ اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے
اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے گل رنگ ابھی سینۂ شبانِ جناں ہے اک لشکرِ عصیاں میں گھرا شاہِ جہاں ہے اک نار مولد جو سدا در پئے جاں ہے اک شخص جو مجموعہِ اوصافِ نبی ہے اک پھول ہے جس پھول میں گلزار نہاں ہے آئے ہیں عجب شان سے میدانِ وغا میں مولا ہیں کہ گلزار میں اک سروِ رواں ہے معصوم سی اک پیاس کا ہنسنا سر میداں کیا تیر ہے جس تیر پہ قرباں کماں ہے دشمن کی قطاروں میں ہیں عباس غضب ناک شمشیر…
Read Moreعماد اظہر
دیا بجھانا، جلانا ، تو ظرف تھا لیکن حسین جانتے تھے کون کارواں میں ہے
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور
اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور یہ تیر ہے وہ جس کی ضرورت ہے کماں اور آیا ہے صفِ سیدِ ابرار میں جب سے اب حر کی ادا اور ہے اندازِ بیاں اور عاشورۂ غم ذہنوں پہ طاری ہے ابھی سے مقصودِ بیاں اور ہے ہوتا ہے عیاں اور معصوم تبسم کہ جواں سینۂ شبٌاں مطلوب ہے اس کے لیے اندازِ بیاں اور اس دہر میں جس شخص نے کی بیعتِ باطل اس سود کے سودے میں سراسر ہے زیاں اور ہر ایک رجز سے سرِ میداں…
Read Moreحبیب جالب
جُھکے گا ظُلم کا پرچم ، یقِین آج بھی ہے مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو مگر نِگاہ میں وُہ سر زمین آج بھی ہے صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ یزید چین سے ، مسند نشِین آج بھی ہے
Read Moreحسین ابن علی ۔۔۔ قتیل شفائی
حُسین غم کے صحراؤں میں گھنگھور گھٹا سا بھی تھا وہ دلاور، کئی روز کا پیا سا بھی تھا زندگی اُس نے خریدی نہ اصولوں کے عوض کیوں کہ وہ شخص محمدؐ کا نوا سا بھی تھا اپنے زخموں کا ہمیں بخش رہا تھا وہ ثواب اُس کی ہر آہ کا انداز دُعا سا بھی تھا صرف تیروں کی آئی ہوئی بوچھاڑ نہ تھی اُس کو حاصل غمِ زہرہ کا دلا سا بھی تھا جب گیا بن کے سوالی وہ حضورِ یزداں سرِ اقدس لئے ہاتھ میں کاسہ بھی تھا…
Read Moreسلام ۔۔۔ واجد امیر
سلام ہماری آنکھ میں ٹھہری تھی جھیل پانی کی سو ہم نے خوب لگائی سبیل پانی کی اُسے بھی چھید دیا بارشوں نے تیروں کی بَس ایک مشک تھی وہ بھی قلیل پانی کی سوال غیرتِ تشنہ لبی کا تھا ،ورنہ زمین تھی نہیں اِتنی بخیل پانی کی گِلا کسی کا کِسی اور سے نہیں بنتا ہَوا تو آئی تھی بَن کے وکیل پانی کی کِسی کے جبر نے رستہ دیا نہ پانی کو کسی کے صبر نے مانی دلیل پانی کی بُہت رُلایا ہے پانی نے خلق کو لیکن…
Read Moreجوش ملیح آبادی
چڑھ کے نیزے پہ دو عالم کو ہلا دیتی ہے کربلا موت کو دیوانہ بنا دیتی ہے
Read Moreناصر علی
کربلا پر ہے اگر ایمان تو مومن ہیں آپ حق پہ دے سکتے ہیں اپنی جان تو مومن ہیں آپ
Read Moreارشد شاہین ۔۔۔ قُربِ رسولِ پاک کا زینہ ہے کربلا
قُربِ رسولِ پاک کا زینہ ہے کربلا ارشد مرے لیے تو مدینہ ہے کربلا اس میں غمِ حسین کا پیہم قیام ہے زخموں سے چور چور یہ سینہ ہے کربلا جو اس میں ہے سوار وہی کامیاب ہے اے دوست! برّیت کا سفینہ ہے کربلا تیرہ و تار جگ کو چمک اس سے ہے ملی خاتم ہے یہ جہاں تو نگینہ ہے کربلا اک غم کی کیفیت ہی یہاں پائیدار ہے اور اس کا لازوال خزینہ ہے کربلا اکسیر اس کی خاک شہیدوں کے خون…
Read More