میرے پاس کیا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس راتوں کی تاریکی میں کھلنے والے پھول ہیں اور بے خوابی دنوں کی مرجھائی روشنی ہے اور بینائی ۔۔۔ میرے پاس لوٹ جانے کو ایک ماضی ہے اور یاد ۔۔۔ میرے پاس مصروفیت کی تمام تر رنگا رنگی ہے اور بے معنویت اور ان سب سے پرے کھلنے والی آنکھ ۔۔۔۔ میں آسمان کو اوڑھ کر چلتا اور زمین کو بچھونا کرتا ہوں جہاں میں ہوں وہاں ابدیت اپنی گرہیں کھولتی ہے جنگل جھومتے ، بادل برستے ، مور ناچتے ہیں میرے…
Read MoreTag: وہ میرے پاس نہ تھا اور مَیں کھل کے رویا تھا
محمد اظہار الحق
بس ایک رات مرے گھر میں چاند اُترا تھا پھر اس کے بعد وہی مَیں، وہی اندھیرا تھا صبا کا نرم سا جھونکا تھا یا بگولا تھا وہ کیا تھا جس نے مجھے مدتوں رُلایا تھا عجب اُٹھان لیے تھا وہ غیرتِ شمشاد تباہ حال دلوں کا کہاں ٹھکانہ تھا اندھیری شام تھی، بادل برس نہ پائے تھے وہ میرے پاس نہ تھا اور مَیں کھل کے رویا تھا زمیں میں دفن مجھے کر گیا ہے جیتے جی تو کیا مَیں اُس کے لیے قیمتی خزینہ تھا جھلس جھلس کے…
Read More