سیماب اکبر آبادی

سجاد اسیرِ جور ہوئے افسوس کسی نے یہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسے پہناتا ہے

Read More

سلام  ۔۔۔ تسنیم عابدی  

اک شہسوار سجدے کی خاطر روانہ ہو نیزوں پہ ہو بلند زمیں پر گرا نہ ہو ایسی بری ہوائیں نہ ایسا زمانہ ہو بیمار کی دوا ہو نہ ہی آب و دانہ ہو جس طرح سانس لینے کی خاطر ہوا نہ ہو "کچھ بھی ہو نہ ہو جہاں میں اگر کربلا نہ ہو” زخمِ جہاں پہ اشکوں کا مرہم لگا نہ ہو مر جائیں تیرے غم کا اگر آسرا نہ ہو اصغر کی لاش شاہ اٹھا لائے ہیں مگر امِ رباب ! کاش ترا سامنا نہ ہو زخمِ گلوئے حضرتِ…

Read More

  شوزیب کاشر ۔۔۔ وفا نژاد و یقین زاد و ابو الارادہ حسین ؓ جیسا

وفا نژاد و یقین زاد و ابو الارادہ حسین ؓ جیسا نہ کوئی دنیا میں ہو سکا ہے نہ ہو سکے گا حسین ؓ جیسا رضائے حق پر جو سر کٹا دے جو گھر لٹا کر بھی دیں بچا لے کسی بھی ماں نے جنا نہیں ہے دلیر بیٹا حسین ؓ جیسا حضورؐ طائف میں سرخرو تھے ، حسینؓ فاتح ہے کربلا میں کسی کا نانا نہیں نبی سا ، نہ ہے نواسہ حسین ؓ جیسا ہو جس کے قبضے میں بحرِ کوثر مگر وہ شاکر ہو تشنگی پر دیارِ…

Read More

میثم علی آغا ۔۔۔ عہدِ مفلوجِ سخن جبر کے آثار پہ خاک

عہدِ مفلوجِ سخن جبر کے آثار پہ خاک ظلمتِ طاقِ ابد ظلم کے ہر وار پہ خاک تیری کوشش کہ حسینؑ ابنِ علیؑ مٹ جائے اے جگر خوارہ کے پوتے تیرے افکار پہ خاک ہم جو گلیوں میں چلے آتے ہیں ماتم کرنے ڈالنے آتے ہیں تجھ پر تِرے کردار پہ خاک تُو نے تطہیر کی آیات کے پردے چھینے تجھ پہ اللہ کی لعنت تِرے دربار پہ خاک بھیڑ بازار کی بڑھتی ہے تو چیخ اُٹھتا ہوں شام اے شام تِرے کوچہ و بازار پہ خاک اک تہہِ تیغ…

Read More

سلام بحضور امامِ عالی مقام علیہ السلام ۔۔۔ فیصل عجمی

سلام بحضور امامِ عالی مقام علیہ السلام صبح گریہ نہ شامِ گریہ ہے لمحہ لمحہ مقامِ گریہ ہے گفتگو سے گریز کیجے گا خامشی ہم کلامِ گریہ ہے عشق آباد کا سفر نامہ رایگانی بنامِ گریہ ہے رفتگاں سے حکایتیں ہوں گی خواب میں اہتمامِ گریہ ہے کون سی آنکھ تر نہیں ہوتی کو بہ کو انتظامِ گریہ ہے سارے آنسو ہیں کربلا کے لیے جاودانی سلامِ گریہ ہے

Read More

سلامِ نَو ۔۔۔ پر وین حیدر

سلامِ نو اسی دیار اسی سنگِ در سے ملتے ہیں تمام رستے انھی کی نظر سے ملتے ہیں انھی کی ذات ھے جو سائباں ہوئی سب پر حسین والوں کے رشتے ہنر سے ملتے ہیں ہر ایک راستہ جاتا ھے ان کےگھر کی طرف تمام رنگِ سفر ان کےگھر سے ملتے ہیں شکست گرچہ مقدر ھے آدمی کی مگر جو ان کے ہوتے ہیں فتح و ظفر سے ملتے ہیں پکارتی ھے چمن کی ہر ایک راہ گزر ثمر نجات کے سب اس شجر سے ملتے ہیں ا نھی کا…

Read More