اکبر الہ آبادی

عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

Read More

اکبر الہ آبادی

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

Read More

اکبر الہ آبادی ۔۔۔ رباعی

بنگلوں سے نماز اور وظیفہ رخصت کالج سے امام ابو حنیفہ رخصت صاحب سے سنی ہے اب قیامت کی خبر قسطنطنیہ سے ہیں خلیفہ رخصت

Read More

اکبر الہ آبادی

بحثیں فضول تھیں، یہ کھلا حال دیر میں افسوس! عمر کٹ گئی لفظوں کے پھیر میں ………………………….. انتخابِ اکبر الہ آبادی تصیح ترتیب: ڈاکٹر صدیق الرحمٰن قدوائی مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دریا گنج، دہلی جون ۱۹۷۳ء

Read More

اکبر الہ آبادی

عشق کے فن میں ہے اکبر کا بھی درجہ عالی عیب کچھ اُس میں نہیں ضبط نہ کرنے کے سوا

Read More

اکبر الہ آبادی….. یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا

یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا نالۂ شب سے کیا ہوا، آہِ سحر نے کیا کیا دونوں کو پا کے بے خبر، کر گئے کام حسن و عشق دِل نے ہمارے کیا کیا، اُن کی نظر نے کیا کیا صاحبِ تاج و تخت بھی موت سے یاں نہ بچ سکے جاہ و حشم سے کیا ہوا، کثرتِ زَر نے کیا کیا کھل گیا سب پہ حالِ دل، ہنستے ہیں دوست برملا ضبط کیا نہ رازِ عشق، دیدۂ تر نے کیا کیا اکبرِ خستہ دِل…

Read More