سلام  ۔۔۔ تسنیم عابدی  

اک شہسوار سجدے کی خاطر روانہ ہو نیزوں پہ ہو بلند زمیں پر گرا نہ ہو ایسی بری ہوائیں نہ ایسا زمانہ ہو بیمار کی دوا ہو نہ ہی آب و دانہ ہو جس طرح سانس لینے کی خاطر ہوا نہ ہو "کچھ بھی ہو نہ ہو جہاں میں اگر کربلا نہ ہو” زخمِ جہاں پہ اشکوں کا مرہم لگا نہ ہو مر جائیں تیرے غم کا اگر آسرا نہ ہو اصغر کی لاش شاہ اٹھا لائے ہیں مگر امِ رباب ! کاش ترا سامنا نہ ہو زخمِ گلوئے حضرتِ…

Read More

  شوزیب کاشر ۔۔۔ وفا نژاد و یقین زاد و ابو الارادہ حسین ؓ جیسا

وفا نژاد و یقین زاد و ابو الارادہ حسین ؓ جیسا نہ کوئی دنیا میں ہو سکا ہے نہ ہو سکے گا حسین ؓ جیسا رضائے حق پر جو سر کٹا دے جو گھر لٹا کر بھی دیں بچا لے کسی بھی ماں نے جنا نہیں ہے دلیر بیٹا حسین ؓ جیسا حضورؐ طائف میں سرخرو تھے ، حسینؓ فاتح ہے کربلا میں کسی کا نانا نہیں نبی سا ، نہ ہے نواسہ حسین ؓ جیسا ہو جس کے قبضے میں بحرِ کوثر مگر وہ شاکر ہو تشنگی پر دیارِ…

Read More

میثم علی آغا ۔۔۔ عہدِ مفلوجِ سخن جبر کے آثار پہ خاک

عہدِ مفلوجِ سخن جبر کے آثار پہ خاک ظلمتِ طاقِ ابد ظلم کے ہر وار پہ خاک تیری کوشش کہ حسینؑ ابنِ علیؑ مٹ جائے اے جگر خوارہ کے پوتے تیرے افکار پہ خاک ہم جو گلیوں میں چلے آتے ہیں ماتم کرنے ڈالنے آتے ہیں تجھ پر تِرے کردار پہ خاک تُو نے تطہیر کی آیات کے پردے چھینے تجھ پہ اللہ کی لعنت تِرے دربار پہ خاک بھیڑ بازار کی بڑھتی ہے تو چیخ اُٹھتا ہوں شام اے شام تِرے کوچہ و بازار پہ خاک اک تہہِ تیغ…

Read More

سلام بحضور امامِ عالی مقام علیہ السلام ۔۔۔ فیصل عجمی

سلام بحضور امامِ عالی مقام علیہ السلام صبح گریہ نہ شامِ گریہ ہے لمحہ لمحہ مقامِ گریہ ہے گفتگو سے گریز کیجے گا خامشی ہم کلامِ گریہ ہے عشق آباد کا سفر نامہ رایگانی بنامِ گریہ ہے رفتگاں سے حکایتیں ہوں گی خواب میں اہتمامِ گریہ ہے کون سی آنکھ تر نہیں ہوتی کو بہ کو انتظامِ گریہ ہے سارے آنسو ہیں کربلا کے لیے جاودانی سلامِ گریہ ہے

Read More

سلامِ نَو ۔۔۔ پر وین حیدر

سلامِ نو اسی دیار اسی سنگِ در سے ملتے ہیں تمام رستے انھی کی نظر سے ملتے ہیں انھی کی ذات ھے جو سائباں ہوئی سب پر حسین والوں کے رشتے ہنر سے ملتے ہیں ہر ایک راستہ جاتا ھے ان کےگھر کی طرف تمام رنگِ سفر ان کےگھر سے ملتے ہیں شکست گرچہ مقدر ھے آدمی کی مگر جو ان کے ہوتے ہیں فتح و ظفر سے ملتے ہیں پکارتی ھے چمن کی ہر ایک راہ گزر ثمر نجات کے سب اس شجر سے ملتے ہیں ا نھی کا…

Read More

سید نصیرالدین نصیر

حُسنِ تخلیق کا شہکار ، حسینؓ ابنِ علیؓ عشق کا مطلعِ انوار ، حسینؓ ابنِ علیؓ حق نے باطل کو بہ ہر حال پنَپنے نہ دیا اِس حقیقت کا ہیں اظہار ، حسینؓ ابنِ علیؓ

Read More

سید نصیرالدین نصیر ۔۔۔ جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے  

جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلی پر کھڑا کیا نمازی ہے کہ بے خوفِ عدو سجدے میں ہے اے حسین ابن علی تجھ کو مبارک یہ عروج آج تو اپنے خدا کے روبرو سجدے میں ہے جانبِ کعبہ جھکا مولودِ کعبہ کا پسر قبلہ رو ہو کر حسینِ قبلہ رو سجدے میں ہے ابنِ زہرا اس تری شانِ عبادت پر سلام سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے…

Read More

نذیر قیصر

بس ایک شام سرِدشت کربلا اتریپھر اس کے بعد گھروں سے علم نکلتا رہا

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ عمر چھ ماہ نام اصغر ہے  

عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے اسے جس جوانی کا نام اکبر ہے حسنِ اکبر پہ ماہتاب نثار اور اکبر نثارِ اصغر ہے پیاس کو تیر مارنے والے ایک بچہ جوان لشکر ہے وار ایسا کیا تبسم کا کند بیعت کا اب بھی خنجر ہے حسن میں ہے وہ اکبر و قاسم اور شجاعت میں رشکِ حیدر ہے وہ بہتر میں اک اکیلا تھا وہ اکیلا بھی اک بہتر ہے کربلا میں تبسمِ اصغر دشت میں موج زن سمندر ہے…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے  

اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے گل رنگ ابھی سینۂ شبانِ جناں ہے اک لشکرِ عصیاں میں گھرا شاہِ جہاں ہے اک نار مولد جو سدا در پئے جاں ہے اک شخص جو مجموعہِ اوصافِ نبی ہے اک پھول ہے جس پھول میں گلزار نہاں ہے آئے ہیں عجب شان سے میدانِ وغا میں مولا ہیں کہ گلزار میں اک سروِ رواں ہے معصوم سی اک پیاس کا ہنسنا سر میداں کیا تیر ہے جس تیر پہ قرباں کماں ہے دشمن کی قطاروں میں ہیں عباس غضب ناک شمشیر…

Read More