برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی مدینے کے سفر کا بس اتنا سا اثاثہ ہے قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے
Read MoreTag: Literature
افتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے
شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہے محبتوں…
Read Moreسلامیہ ۔۔۔ پرویز ساحر
سلامیہ کرے نہ کیوں زمانہ احترام ‘ یا حُسَین ! بَلنـــد تر ہــے آپ کا مقام ‘ یا حُسَین ! کب اَصغر و سکینہ کے لبوں تکــ آ سکا فرات رہ گیا ہے تَشنہ کام ‘ یا حُسَین ! اُنھی دِنوں میں عام قتل و خُوں کِیا گیا کہ جن دِنوں میں جنگ ہے حرام ‘ یا حُسَین ! یہ آپ کے کلامِ خُوش اثر کا ہے کمال کہ حُر بھی آپ کا ہُوا غُلام ‘ یا حُسَین ! تمام تَشنگاں نے جام نوش کر لیے کہ جام بھی شہادتوں…
Read Moreسلام ۔۔۔ عرفان صدیقی
سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا صحرا کو شادکام کیا اس کی موج نے تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا تابندہ ہے رگوں میں لہو روشنائی سے دنیا کے نام نامۂ سرورؑ لکھا ہوا مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے کس کیلئے ہے چشمۂ کوثر…
Read Moreسلام بحضور شہدائے کربلا ۔۔۔ شین زاد
سلام بحضور شہدائے کربلا . میں یوں تو پڑھتا ہوں ہر روز بار بار سلام کرم حُسین کا ہو تو کہوں ہزار سلام . ہر ایک اشک میں آتا ہوا سلام اُن پر سلام اُن پہ سلام اور بے شمار سلام . برستی آنکھ پہ اصغر کے خشک ہونٹوں پر میں بھیجتا ہوں لب ِ خشک اشکبار سلام . ہزار کو تو جہنم رسید تو نے کیا سلام شاہ کی تلوار ذُولفقار سلام . سلام آپ کے جانے پہ یا حُسین مگر بہن کہے تو کہے کیسے دل فگار سلام…
Read Moreسلام ۔۔۔ توقیر تقی
سلام ۔۔ زیارت گاہِ چشم و دل بنا ہے شہرِ غم اپنا یہیں ہے ایک مشک اپنی یہیں ہے اک علم اپنا اِسی موسم میں سجتے ہیں عزا خانے دل و جاں میں انھی آنکھوں میں لیتی ہے شبِ گریہ جنم اپنا بس اک انکارِ جادہ ہے حسینی فکر لوگوں کا بس اک چوکھٹ پہ ہوتا ہے سرِ تسلیم خم اپنا تصدّق بر غمِ شبّیرؑ ہو کے بھی سلامت ہیں زمیں اپنی، زماں اپنے، وجود اپنا، عدم اپنا حبیب ابنِ مظاہر ہوں کہ حُر ہوں سب برابر ہیں مودّت دل…
Read Moreنذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! ۔۔۔ رحمان فارس
نذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حُسین کا ہے ؟ فُرات چھیننے والو ! خُدا حُسَین کا ہے !!! کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو ثباتِ رسمِ عزا مُعجزہ حُسَین کا ہے ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حُسَین کا ہے جہاں بھی ذکر ھو، اشکوں کے گُل برستے ھیں یہ احترام نبی کا ہے یا حُسَین کا ہے ذراسا غور سے دیکھو اُفق کی سُرخی…
Read Moreسلام ۔۔۔ منیر سیفی
کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائی بھُول گئی چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا موت اور سائل دستک کی خفّت سے بچ بھی سکتے ہیں اِک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا جب تک پیروکار نبی کے آنا بند نہیں ہوتے حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا کیا کیا ظُلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا ایک حسین…
Read Moreمحرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے ۔۔۔۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی، ترجمہ: رئیس امروہوی
” محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے” محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! یہی تقدیرِ یزدان تھی یہی سرِ مشئیت تھا مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا یہی فدیہ برائے بخششِ افرادِ ملت تھا شہادت کربلا والوں کی کیا تھی‘ رمزِ قدرت تھا محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ
ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﻭ ﻣﺤﺘﺸﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﻋﻠﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺳﺒﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺪﺭِ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺍﯾﮏ ﻏﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺟﮭﯿﻞ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺪﮦٔ ﻧﻢ ﭘﺮ ﺗﺮﺍ ﮐﺮﻡ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺍﻣﮉ ﭘﮍﯼ ﻣﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢِﺑﮩﺸﺖ ﮐﮧ ﺩﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﻣﺮﮮ ﺭﺥ ﺳﮯ ﻏﺒﺎﺭِ ﻏﻢ ترا ﻏﻢ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮩﺮ ﭘﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﮞ…
Read More