یزدانی جالندھری

ٹوٹا نہیں اشکوں سے ابھی ضبط کا پشتہ پانی ابھی خطرے کے نشاں تک نہیں آیا

Read More

عزیز قیسی

نہ ہم سیاہی نہ ہم اجالا چراغ ہیں اشکِ آرزو کے کہ ہم سرِ دشت بے کراں ہیں سلگتے رہتے ہیں شام سے ہم

Read More

ایوب رومانی ۔۔۔ جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا  

جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا صحنِ گُل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا دل میں موجود رہا، آنکھ سے اوجھل نکلا اک ملاقات تھی جو دل کوسدا یاد رہی ہم جسے عمر سمجھتے تھے وہ اک پل نکلا وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا ہم سکوں ڈھونڈنے نکلے تھے، پریشان رہے شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا کون ایوب پریشاں نہیں تاریکی…

Read More

ادا جعفری

صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنت‌ِ انساں میں جنت‌ انساں کا پتا ڈھونڈھ رہی ہوں

Read More

سیف الدین سیف ۔۔۔ مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں

مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے کہاں یہ کہاں تک پھیلتی جاتی ہیں دل کی وسعتیں حسرتو! دیکھو سمٹ آئے ہیں ویرانے کہاں میں بہت بچ بچ کے گزرا ہوں غمِ ایام سے لُٹ گئے تیرے تصور سے پری خانے کہاں یہ بھی تیرے غم کا اِک بدلا ہوا انداز ہے میں کہاں ورنہ غمِ دوراں کہاں بزم سے وحشت ہے، تنہائی میں جی لگتا نہیں اب کِسی کی یاد لے جائے خدا جانے کہاں سیف ہنگامِ وصال آنکھوں میں…

Read More

حامد یزدانی

الاپ آتا ہے جیسے گیت میں دُھن سے ذرا پہلے سنی تھی تم نے بھی کیا وہ صدا کُن سے ذرا پہلے

Read More

طارق متین ۔۔۔ یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم

یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم کوئی عروج میں گم ہے کوئی زوال میں گم نصابِ عشق میں ہجر و وصال ایک سے ہیں ہے میرے ہجر کا رشتہ ترے وصال میں گم یہ اک نظارہ الگ ہے سبھی نظاروں سے مری نظر کا تسلسل ترے جمال میں گم یہ نازکی مرے شعروں کی بے سبب تو نہیں کہ میری فکرِ سخن ہے اسی غزال میں گم تمھیں ہو کیسے خبر خود مجھے نہیں معلوم میں کس جواب میں گم ہوں میں کس سوال میں گم…

Read More

سیف الدین سیف ۔۔۔ جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں

جب تصور میں نہ پائیں گے تمھیں پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمھیں تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو لوگ افسانہ بنائیں گے تمھیں حسرتو ! دیکھو یہ ویرانۂ دل اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمھیں میری وحشت، مرے غم کے قصے لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمھیں آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمھیں آج کیا بات کہی ہے تم نے پھر کبھی یاد دلائیں گے تمھیں سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمھیں

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں

برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں رہو تم شاد اے اہلِ وطن ہم گھر سے جاتے ہیں نوید اے خارِ صحرا مژدہ اے دشواریٔ منزل کہ ہم راہِ وفاداری میں چشم و سر سے جاتے ہیں کہاں گم گشتۂ راہِ سعادت ہیں انھیں دیکھیں جو چلتے ہیں نگاہوں میں وہ اس تیور سے جاتے ہیں جلو میں فوجِ غم ہے اردلی میں لشکرِ عسرت بیاباں میں افق ہم ایسے کر و فر سے جاتے ہیں

Read More