بس ایک شام سرِدشت کربلا اتریپھر اس کے بعد گھروں سے علم نکلتا رہا
Read MoreTag: Poetry
کاشف حسین غائر ۔۔۔ ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے
ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے چلتا ہی رہا کوئی برابر مرے آگے کیا خاک مری خاک میں امکان ہو پیدا ناپید ہیں موجود و میسر مرے آگے یوں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہوں پیچھے رہتا ہے مسافت میں مرا گھر مرے آگے رکھتی ہے عجب پاس مری تشنہ لبی کا سو موج اُٹھاتی ہی نہیں سر مرے آگے ہنستا ہی رہا میں در و دیوار پر اپنے روتا ہی رہا میرا مقدر مرے آگے کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری اور نیند بچھاتی رہی بستر…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری
یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری سادات کے غم سے ہوئی تعمیر ہماری توقیر سدا کرتا ہے تطہیر ہماری تہذیب میں شامل غمِ شبیر ہماری اک زخم نکھرتاہوا زنجیر زنی سے اک درد ہلاتا ہوا زنجیر ہماری کہتی تھی دمِ نزع سکینہ سے ضعیفی کچھ دیر کو ہے سامنے تصویر ہماری اک زہر میں ڈوبی ہوئی لوگوں کی خموشی اک نوحے سے ہوتی ہوئی تطہیر ہماری اک نعرۂ پر جوش ہوا ڈھال ہمیشہ اک نوحۂ غم ہو گیا شمشیر ہماری یہ کس کی سرِ دشت ہیں پر درد صدائیں…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ عمر چھ ماہ نام اصغر ہے
عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے اسے جس جوانی کا نام اکبر ہے حسنِ اکبر پہ ماہتاب نثار اور اکبر نثارِ اصغر ہے پیاس کو تیر مارنے والے ایک بچہ جوان لشکر ہے وار ایسا کیا تبسم کا کند بیعت کا اب بھی خنجر ہے حسن میں ہے وہ اکبر و قاسم اور شجاعت میں رشکِ حیدر ہے وہ بہتر میں اک اکیلا تھا وہ اکیلا بھی اک بہتر ہے کربلا میں تبسمِ اصغر دشت میں موج زن سمندر ہے…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے
اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے گل رنگ ابھی سینۂ شبانِ جناں ہے اک لشکرِ عصیاں میں گھرا شاہِ جہاں ہے اک نار مولد جو سدا در پئے جاں ہے اک شخص جو مجموعہِ اوصافِ نبی ہے اک پھول ہے جس پھول میں گلزار نہاں ہے آئے ہیں عجب شان سے میدانِ وغا میں مولا ہیں کہ گلزار میں اک سروِ رواں ہے معصوم سی اک پیاس کا ہنسنا سر میداں کیا تیر ہے جس تیر پہ قرباں کماں ہے دشمن کی قطاروں میں ہیں عباس غضب ناک شمشیر…
Read Moreعماد اظہر
دیا بجھانا، جلانا ، تو ظرف تھا لیکن حسین جانتے تھے کون کارواں میں ہے
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور
اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور یہ تیر ہے وہ جس کی ضرورت ہے کماں اور آیا ہے صفِ سیدِ ابرار میں جب سے اب حر کی ادا اور ہے اندازِ بیاں اور عاشورۂ غم ذہنوں پہ طاری ہے ابھی سے مقصودِ بیاں اور ہے ہوتا ہے عیاں اور معصوم تبسم کہ جواں سینۂ شبٌاں مطلوب ہے اس کے لیے اندازِ بیاں اور اس دہر میں جس شخص نے کی بیعتِ باطل اس سود کے سودے میں سراسر ہے زیاں اور ہر ایک رجز سے سرِ میداں…
Read Moreحبیب جالب
جُھکے گا ظُلم کا پرچم ، یقِین آج بھی ہے مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو مگر نِگاہ میں وُہ سر زمین آج بھی ہے صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ یزید چین سے ، مسند نشِین آج بھی ہے
Read Moreانجم سلیمی
کتنا تکلیف دہ تقاضہ ہے خوش نظر آنا ،اور خوش رہنا
Read Moreجون ایلیا
جانے کیا واقعہ ہوا، کیوں لوگ اپنے اندر نہیں رہے آباد
Read More