نسیم امروہوی

حیدر سا بہادر کوئی ہوگا نہ ہوا ہے ہاں حضرتِ عباس کو کہیے تو بجا ہے ان کو بھی وہی زور وہی رعب ملا ہے یہ ایک شرف شیرِ خدا سے بھی سوا ہے سقّائی کا عہدہ تو علی کو نہ ملا تھا لیکن کوئی سقّا کہیں پیاسا نہ سنا تھا

Read More

وصی حسن نقاش ۔۔۔ غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں

پڑے ہوں فرش پہ لیکن کھڑے نظر آئیں غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں اسی لئے تو عزادار بھی ہیں مثلِ نگیں جہاں بھی مجلسِ شہ ہو جڑے نظر آ ئیں سمجھ یہ لینا کہ اپنی حیات باقی ہے درِ حسین پہ جب تک پڑے نظر آئیں نظر میں ڈھال لو اس طرح کربلا کا وجود عدو جو دیکھیں تو تیور کڑے نظر آئیں اسی لئے تو میں ذکرِ حسین کرتا ہوں کوئ ہنر تو ہو جس میں بڑے نظر آئیں جہاں بشر کے قوانین درج ہیں نقاش…

Read More

سلام بحضورِ امام عالی مقام حسين عليہ السّلام ۔۔۔ افضل گوہر

سلام بحضورِ امام عالی مقام حسين عليہ السّلام تھک گيا جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے کون تيری طرح نيزے پہ سفر کرتا ہے آج بھی ميرے تعاقب ميں ہے اک ايسا يزيد پانی مانگوں تو بدن خون سے تر کرتا ہے کربلا اپنے تقدس کو سنبھالے رکھنا خون ايسا ہے کہ ذرّات کو زر کرتا ہے سب کو رونے کا سليقہ نہيں آتا ،ورنہ تيرا ماتم تو ہر اک دل پہ اثر کرتا ہے ہم حسينی ہيں ہميں اس ليے افضل گوہر کوئ پابند ، کوئ شہر بدر…

Read More

سلام ۔۔۔ حمیدہ شاہین

سلام غمِ حسینؑ حقیقت بھی، استعارا بھی یہ اپنے آپ میں غم بھی ہے ، غم کا چارا بھی ہے ایک یاد دہانی یہ ذکرِ کرب و بلا کہ اپنے درد بھی سانجھے ہیں اور خسارا بھی پکارتے ہیں زمان و مکاں بھی نوحہ کناں غمِ حسینؑ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی بیانِ قصّہِ غم آنسوؤں پہ فرض ہوا کسی کمی کو جو کرتے نہیں گوارا بھی کمالِ آیۂ بالصّبر والصّلوٰۃ حسینؑ جو ایک وعدہ بھی ، امّید بھی ، سہارا بھی کس آفتاب پر اَن ہونیوں کی شام آئی…

Read More

نذیر حسین بٹ ۔۔

ہر دور کے یزید کی مجلس میں بیٹھ کر دیتے ہیں لوگ گالیاں گذرے یزید کو

Read More

ہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ ۔۔۔ ذیشان سید

ہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ حمد سے والناس کی تفسیر کا بانی حُسینؑ کاتبِ تقدیر کی تقدیر کا بانی حٗسینؑ دے دیئے بیٹے کسی کو تو کسی کو پر دیے لوح پہ لکھی ھُوئی تقدیر کا بانی حُسینؑ جُھک گئے سارے پیغمبر جب چڑھا نیزے پہ سَر دہر میں اسلام کی توقیر کا بانی حُسینؑ از سرِ نو کربلا میں زندگی بخشی جسے مذہبِ اسلام کی تعمیر کا بانی حُسین

Read More

حفیظ جالندھری ۔۔۔ سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین

سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین لباس ہے پھٹا ہوا ،غبار میں اٹا ہوا تمام جسمِ نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر اٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سے یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ…

Read More

افتخار حیدر ۔۔۔ گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت

گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت شبیر نے لکھ دی سرِ دیوار حقیقت اکبر کی اذاں ،اصغرِ بے شیر کی مسکان اور قاسمِ ذی جاہ کی للکار حقیقت گو شام کی آندھی نے اسے گھیرا ہے لیکن نیزے پہ نظر آتی ہے ضوبار حقیقت ہر دور میں فتووں کے غلاف اس پہ چڑھے ہیں تاریخ بتاتی رہی ہر بار حقیقت سجاد نے جھٹلایا سرِ تخت عدو کو زینب نے بتائی سرِ دربارِ حقیقت

Read More

قتیل شفائی

برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی مدینے کے سفر کا بس اتنا سا اثاثہ ہے قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے

Read More

افتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے

شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہے محبتوں…

Read More