ڈاکٹر افتخارالحق ۔۔۔ سسک رہی ہے زمیں اور آسماں چپ ہے  

سسک رہی ہے زمیں اور آسماں چپ ہے مکان گریہ کناں ہیں کہ لامکاں چپ ہے یہ کہہ کے منصفِ اعلیٰ نے فیصلہ لکھّا کہ مدّعی کے گواہوں کا ہر بیاں چپ ہے بتاتے رہتے ہیں ماضی کے ادھ جلے لمحے ہماری راکھ سے اٹھتا ہوا دھواں چپ ہے بساط چیخ رہی ہے لہو کے دریا میں مگر کنارے پہ تنظیمِ شاطراں چپ ہے نہ کوئی جوڑنے والا نہ روکنے والا ستارے ٹوٹتے جاتے ہیں کہکشاں چپ ہے جو بار بار بدلتا رہا مری مٹّی مری نمو سے پریشاں وہ…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید  

دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید قاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شاید آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں باتیں ہیں بہکی بہکی آئے ہو تم کہیں سے پی کر شراب شاید کیا جانے کس ہوا میں اتنا اُبھر رہا ہے ہستی نہیں سمجھتا اپنی حباب شاید مجھ پر جو وہ سحر سے اس درجہ مہرباں ہیں شب کی دعا ہوئی ہے کچھ مستجاب شاید بیمار ہوں بندھی ہے دھن رات دن سفر کی غربت میں اپنی مٹی ہوگی خراب شاید پچھلے سے وصل کی شب آثار صبح…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت

ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت تھا عکسِ ذات فقط ایک‘ آئینے تھے بہت تمہارے بعد تو سنسان ہو گیا ہے شہر عجیب دن تھے وہ‘ تم تھے تو رتجگے تھے بہت ہمی نے ترکِ مراسم کی راہ اپنا لی یہ اور بات تعلق کے راستے تھے بہت سحر سے مانگ رہے ہیں وہ عکس خواب و خیال چراغِ شوق جلا کر جو سوچتے تھے بہت چھلک اُٹھے ہیں مرے صبر کے تموج سے رفاقتوں کے جو دریا اُتر گئے تھے بہت تھا جلوہ ریز مری خلوتوں میں…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی

وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی شاخ سے کٹ کر کسی کالر پہ کل سج جائے گا وُہ کہ جو ہونٹوں پہ آئے گی ہنسی، رُک جائے گی ہوتے ہوتے خشک موسم، ہاتھ دِکھلا جائے گا ہوتے ہوتے پیڑ کی، بالیدگی رُک جائے گی ہم نے ماجد کب یہ سوچا تھا کہ جسم و جان کو سینچتی ہے جو وہ موجِ تازگی، رُک جائے گی

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش

مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش مست و بیگانہ گزر جا کرۂ خاکی سے یہ تو ہے رہ گزرِ سیلِ خیالات اے جوش اور تو اور خود انسان بہا جاتا ہے کتنا پر ہول ہے طوفانِ روایات اے جوش لوگ کہتے ہیں حجابات نہیں جز آیات کس سے کہئے کہ یہ آیات ہیں خود ذات اے جوش اہلِ الفاظ شریعت پہ مٹے جاتے ہیں کس کو سمجھاؤں مشیت کے اشارات اے جوش دیکھیے صبحِ جنوں ذہن میں…

Read More

تابش مہدی ۔۔۔ جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے

جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے سمندر آج کل پیاسا بہت ہے یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے اسے اب بھول جانا چاہتا ہوں کبھی میں نے جسے چاہا بہت ہے وہ پتھر کیا کسی کے کام آتا مگر سب نے اسے پوجا بہت ہے مرا گھر تو اجڑ جائے گا لیکن تمہارے گھر کو…

Read More

جلی امروہی ۔۔۔ نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ

نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﻭﺡ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺟﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﻓﺴﺎﺩ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﻑِ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﺍﮨﻞِ ﻇﺮﻑ ﺍﮨﻞِ ﻧﻈﺮ ﺑﺎﺕ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺟﯿﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺑﺰﻡِ ﻋﺸﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻘﺎﻥِ ﻃﺮﺏ ﻧﺎﻟۂ ﺩﻝ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﺭﺱ ﻟﻮ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺣﺒﺎﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮮ ﺟﻠﯽ ﺩﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ…

Read More

اختر عثمان ۔۔۔ فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس !

فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس ! لوٹ آؤ ، سکینہ کو ابھی آس ہے عبّاس ! عبّاس جو آتے تھے تو خوش ہوتی تھیں زینب فرماتی تھیں : کیا غم ہے اگر پاس ہے عبّاس وہ ایسا جَری ہے کہ وفا ختم ہے اُس پر دِل کے لئے ایمان کا احساس ہے عبّاس کیا کیا صِفَتیں اِس میں ہیں ، شبّیر سے پوچھو حیدر ہے، علَم دار ہے، عبّاس ہے عبّاس !! زہرا کی دعا ہے تو علی کا ہے وہ مقصود جو صرف علی کا…

Read More

سلام بحضور امامِ عالی مقام ۔۔۔ شکیل جاذب

سلام بحضور امامِ عالی مقام بس کُشتگانِ راہِ ابد گیر کر گئے دشتِ بلا کی خاک کو اکسیر کر گئے صدیوں سے جس کی ہمّتِ انساں تھی منتظر وہ کام حق کی راہ میں شبّیر کر گئے اک خیمۂ جمال کے بجھتے ہوئے چراغ راہِ وفا میں روشنی تحریر کر گئے عبّاس اپنے بازو کٹا کر لبِ فُرات باطل کے دستِ ظلم کو زنجیر کر گئے جو تیر کربلا میں چلے تھے حُسین پر دراصل مُصطفےٰ (ص) کا جگر چیر کر گئے آنکھوں میں اشک چاک گریباں سروں پہ خاک…

Read More

غلام محمد قاصر ۔۔۔ کچھ ایسی بات محرم کا چاند کہتا ہے

کچھ ایسی بات محرم کا چاند کہتا ہے کہ سال بھر مرا دل کربلا میں رہتا ہے چلیں نشیب کو دریا مگر تمھارے لیے فراتِ اشک بُلندی کی سمت بہتا ہے اک استعارۂ ہجرت ہے روشنی کی طرف جہاں کہیں بھی پرندہ سفر میں رہتا ہے کہ داستانِ عروج و زوالِ ملّت میں وہی تو سچ ہے جو حصّہ حُسینٌ کہتا ہے

Read More