ستونِ ریگ نہ ٹھہرا عدیمؔ چھت کے تلے میں ڈھ گیا ہوں خود اپنے کو آسرا دے کر
Read MoreTag: Urdu ghazal
عدیم ہاشمی
میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں میں کہسار کی جانب مجھے دنیا کی پستی میں اتر جانا نہیں آتا
Read Moreعدیم ہاشمی
ہر کوئی پارسائی کی عمدہ مثال تھا دل خوش ہوا ہے ایک گنہ گار دیکھ کر
Read Moreعدیم ہاشمی
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
Read Moreعدیم ہاشمی
کیوں سب کی طرح بھیگ گئی ہیں تری پلکیں ہم نے تو تجھے حال سنایا نہیں اتنا
Read Moreعدیم ہاشمی
عدیمؔ بیٹھا ہوا ہوں پروں کے ڈھیر پہ میں خوش اس طرح ہوں کہ جیسے کسی اڑان میں ہوں
Read Moreعدیم ہاشمی
غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا وہ مرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا
Read Moreعلی سردار جعفری
آئے ہم غالبؔ و اقبالؔ کے نغمات کے بعد مصحفِ عشق و جنوں حسن کی آیات کے بعد
Read Moreشہزاد احمد
شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمعِ محفل سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو
Read Moreقتیل شفائی
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
Read More