اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
Read MoreMonth: 2024 جون
اشفاق حسین … فیض احمد فیض۔۔ شخصیت اور فن
فیض احمد فیض ۔۔شخصیت اور فن پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟ انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ…
Read Moreسید راشد حامدی ۔۔۔ پنڈت آنند نرائن ملّا کا نظریۂ شعر و ادب
پنڈت آنند نرائن ملا کا نظریہ شعر و ادب پچھلی صدی کے پانچویں دہے سے شعر و ادب کے نام نہاد ناقدین ایک جھوٹ بڑے تو اتر سے بولتے آ رہے ہیں کہ ’’اگر سچ زیادہ ہو تو فن کم ہو جاتا ہے ‘‘۔ اگر اس جملے کی تقلیب کر کے یوں کہا جائے کہ ’’اگر جھوٹ زیادہ ہو تو فن بڑھ جاتا ہے ‘‘۔ تو ان ناقدین کی تیوریوں پر بل پڑ جائیں گے اور کہنے والے کا ادبی مقاطعہ کرنے میں انہیں دیر نہیں لگے گی۔ حالانکہ یہ…
Read Moreجمال احسان ۔۔۔ چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا جمال پہلی شناسائی کا وہ اک لمحہ اسے بھی یاد نہ تھا…
Read Moreاحمد فراز
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے بے بصر کرنے لگی ماجد گماں کی تیرگی خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا
پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا مستی میں میری تھی یاں اک شور اور شرابا وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں سوکھا پڑا ہے اب تومدت سے یہ دوآبا ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں نے عشق کو ہے صرفہ نے حسن کومحابا ہر چند ناتواں ہیں پر آگیا جو جی میں دیں گے ملا زمیں سے تیرا فلک قلابا اب شہر ہرطرف سے میدان ہوگیا ہے پھیلا تھا اس طرح کا کاہے کو یاں خرابا دل تفتگی کی اپنی ہجراں میں شرح کیا دوں…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ کیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیا
کیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیا کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گُھور گیا لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے آنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا چشمِ خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا ہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا نالۂ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ کیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا!
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ یادِ ایام کہ یاں ترکِ شکیبائی تھا
یادِ ایام کہ یاں ترکِ شکیبائی تھا ہرگلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا اتنی گزری جو ترے ہجر میں سو اس کے سبب صبر مرحوم عجب مونسِ تنہائی تھا تیرے جلوےکا مگر رُو تھا سحر گلشن میں نرگس اک دیدۂ حیران تماشائی تھا یہی زلفوں کی تری بات تھی یا کاکل کی میر کو خوب کیا سیر تو سودائی تھا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا یا روز اُٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا اُن نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار میں نے اُسے ہزار جتایا تو کیا ہوا مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا میں صیدِ ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں ظاہر جہاں سے ہاتھ اُٹھایا تو کیا ہوا…
Read More